High-Tech, High-Touch For Your Higher Education
Prof. Mr. Maqsood Hasni (PhD)
ki
14 Ehad’saz Tehrerain
Paish’kash:
Prof. Mohammad Abdullah Qazi PhD Isl. Std., Linguistics)
Principal
Govt. College, Bahawal’nagar
Pakistan
امیری میں بھی شاہی طعام پیدا کر
ضلع قصور بلھےشاہ صاحب نور جہان فالودہ میتھی اندرسےاور جوتوں کےحوالہ سے پوری دنیا
میںپہچاناجاتاہےلیکن اب دو اور چیزیں اس کی شہرت کےکھاتے میں داخل ہو گئ ہیں۔ عمران خان کےجلسےمیںلوگوںنےکرسیاںاٹھالیں۔کرسیاںکیوںاٹھائ گئیںبلکل الگ سےموضوع گفتگو ہےتاہم یہ وقوعہ تاریخ میں یادرکھاجاےگایہی نہیں قصورکی وجہ شہرت ضروربنارہےگا۔ دوسراوقعہ بجلی کےحوالہ سےہڑتال جلوس اورعوامی ردعمل ہے۔ اس کاکوئ اثرنہیںہوایہ کوئ نئ اورعجیب بات نہیں ہاں نئ اورعجیب با ت یہ ہےکہ لوگوںکی جوتوں لاٹھیوںسےمرمت اورسیوانہیںہوئ ورنہ ہر گستاخ اورحق مانگےوالے کےپاسےضرورسیکےگءے ہیں۔ بات بھی اصولی ہےاحتجاجی اور ہڑتالی نقص امن اورکارسرکارمیں خلل کاباعث بنتے ہیں۔ کارسرکارکیاہےکھاناپینا اورموج مستی کرنا۔
میرےنزدیک جیب کترےدفترشاہی اورہاؤسزسےمتعلق لوگ سچےدرویش اورالله کوماننےوالے ہیں۔ جب ان میںسےکوئ واردات ڈالتاہےتواسےپورایقین ہوتاہےکہ متاثرہ کا الله مالک ہےاوروہ اسےاپنی جناب سے اورعطاکردےگا۔ گویامتاثرہ پر رائ بھرفرق نہیںپڑےگا۔ ایک شخص دوالینےجارہاہےاوررستےمیںجیب کٹ جاتی ہےکیاجیب کٹ جانے کےبعددوانہیںآتی دواپھربھی آتی ہے۔ گویاسبب توالله کےپاس ہیںاس لیءےجیب کاٹنا جیب کترےکااصولی حق ہے۔
کچھ ادارےعوام کےحق کواپنےہاتھ میںلینےکی کوشش میں ہیں۔یقینا یہ غلط طرزعمل ہے۔ ہرکسی کواپنی حد میںرہناچاہیے۔ وہ خلفاءکےقاضی صاحبان تھےجوخلیفہ کوبھی کٹہرےمیںکھڑاکرلیتےتھے۔ یہ خلیفہ نہیںخلیفے
ہیں۔ ایک طالب علم کےمحترم والد صاحب ماسٹرصاحب کےپاس اپنےبیٹےکی تعلیمی حالت دریافت کرنےگءے۔ ماسٹرصاحب نےانھیںبتایاکہ ان کا لاڈلا تو خلیفہ ہے۔ انھیں اس جواب پرشرمندگی ہوئ ہوگی۔ ہمارےعوام شرمندہ نہیںہیں کیونکہ
1۔ 29سے31فیصدعوام اس کاربد میںحصہ لینے کےسزاوارہوتےہیں
2۔ حصہ لینے کےبعد وہ سبزہ بیگانہ ہوگءےہوتےہیں اورکسی معاملےمیںان کااچھابراعمل دخل نیہںرہ گیاہوتا۔
3۔ 29 سے31فیصدعوام خلیفہ نہیںخلیفےہی چن سکتےہیں۔
4۔ تمام پڑھےلکھےلوگ خلیفےچننےمیںمصروف ہوتےہیں۔
5۔ 29سے31فیصد ووٹ تقسیم کےعمل میں داخل ہوکرنودوگیارہ ہو جاتے ہیں۔ ایسےمیں خیرکی توقع کوئ دیوانہ ہی کرسکتاہے۔
6۔ چناؤمیںحصہ لینےکاعمل مال سےممکن ہےعوام کی گرہ میںمال کہاں اس حقیقت کے با وجود عوام کامقدربھوک پیاس اندھیرہ اورجوتےکھاناہےزبانی کلامی سہی ان کا مان تورکھاجارہاہےاوریہ گوئ معمولی بات نہیں۔
7۔ نازکی اس کےلب کی کیاکہیے پنھکڑی اک گلاب کی سی ہے
سترمیں سے پچاس لڑکوںنےفیض احمد فیض کاشعربتایا۔ جمہوریت کےحوالہ سےاسےدرست مانناپڑےگا۔ اگرتعداددرستی کامعیارہےتوکوئ حق گواورحق پسنددرست نہیںٹھرےگا۔ چھوٹی ہویا بڑی غلطی غلطی ہی ہوتی ہےاوراس کابھگتان زندگی کومتوازن رکھ سکتاہے۔
پروفیسر صاحبان ہڑتال کر رہےہیںاوراحتجاج بھی کریںگےیہ ان کااصولی حق ہےحق نہ دینااورنہ دینےکامشہورہ بااختیارلوگوںکااصولی حق ہے۔ وہ پروفیسر صاحبان کاووٹ لےکرسرکارنہیںبنےاورنہ ہی ان کی مدد سےشکشامنشی کولاٹ ہاؤس میںکرسی ملی ہے۔ یہ توان کےایکرکلرک کی مار نہیں ہیں۔ پتہ نہیں یہ خودکوکیاسمجھتےہیں۔ قصورکےحالیہ تاحدنظرمجمع کو خاطرمیںنہیںلایاگیا ۔ یہ کس کھیت کی مولی گاجرہیں.
میری موجودہ بحران کےحوالہ سےبہت سارے مزدورپیشہ لوگوںسے بات ہوئ اکثرت کواس سےدلچسپی ہی نہیں۔ وہ اسے بڑوں کاکھیل سمجھتےہیں۔ وہ اسےاپنامسلہ نہیں سمجھتے۔ وہ دال روثی اورپانی کی بقدرضرورت فراہمی کوپہلااورآخری مسلہ سمجھتےہیں۔ بیل کوکسی نےکہاتمہیںچورلےجاءیں اس نےکہامجھےاس سےکیاکام کروںگاتوچارہ ملےگا۔ یہاںکون سااکبربادشاہ کے تخت پربیٹھاہوں۔جووہاںجاکربےسکون ہوجاؤں گا۔ بات کام اورچارےتک رہےتوکسی کوکوئ اعتراض نہیں۔ لوگ کام اور چارےسےمحروم ہوگءےہیں۔ وہ کام پرآتےہیںلیکن بجلی کےسبب کام نہیںکرپاتے۔ جب خالی ہاتھ واپس جاتےہیںتوان پرپریشانی کاپہاڑٹوٹ پڑتاہے۔ وہ خودکومجرم سامحسوس کرتےہیں۔ بچوںکی بھوک اورباپ کی بیماری کےلیےدوامیسرنہ آنےکےسبب مایوسی سےباربارمرتےہیں۔
دوسری طرف معاملہ یہ کہ کوئ سچائ کوتسلیم کرنے کےلیےتیارہی نہیں۔ بحث چھڑ گئ کہ ہاتھی انڈےدیتاہےیابچےمولوی صاحب نےانڈےپرشرط لگادی۔ جب اس کی بیوی کوعلم ہواتوخفاہوئ۔جوابامولوی صاحب نےکہاہاروںتب جب مانوںگا۔ ہہ سب نواب صاحب صاحبزادہ صاحب راجہ صاحب چوہدری صاحب وغیرہ ہیں اوراپنےپراءےاورملکی مال کی کمی نہیں۔ بس اب امیری میں شاہی طعام پیداکرنےکی کوشش کر رہےہیں۔ لوگ سڑکوںپرآجاءیںیابھوک پیاس سےمرجاءیںانہیںاس سےکوئ غرض نہیں۔ وہ الله کریم کی ذات پربھروسہ
رکھتے ہیںکہ وہ بہتررزق دینےوالاہے۔ اس لیےیہ ہو ہی نہیںسکتاکہ عوام بھوک سےمرجاءیںگے۔ الله کریم پتھرمیںکیڑےکورزق عطاکرتاہے۔ عوام کا یہ کہنالایعنی اوربےمعنی بلکہ چٹا ننگاجھوٹ ہےکہ وہ بھوک سےمررہےہیں بھوک پیاس کے متعلق بات کرنےوالےسازشی غیرذمہ داربیرونی ایجنٹ دہشت گرد امریکہ کےمجرم اورناءن الیون کی سازش میںشریک تھےاس لیےانھیںمعاف کرنا یاکھلاچھوڑدینااس عہد کی بہت بڑی غلطی ہوگی۔ یہ بھی ممکن ہےکہ یہ لوگ پاکستان دشمن ملک کےلیےکام کررہےہوںاور پاکستان کی سیاسی پارٹیوںکےبےمثال اتحادکوپارپارہ کرنےکی کامیاب کوشش کررہےہوں۔
بھگوان ساز کمی کمین کیوں ہو جاتاہے
کہاجاتاہےکہ جمہوریت کی بساط ووٹ پر کھڑی ہے۔ کتنےاورکون سےووٹ کا نتاراکہیں اورکسی سطع پر نہیںملتا۔ یہ موضوع الگ سےگفتگو کا تقاضاکرتاہے تاہم یہ طےہےکہ جمہوریت میں عوام کوکلیدی حیثیت حاصل ہے۔ موری ممبرسےلےکرقومی اسمبلی کےمبرتک ایک عام اورغریب آدمی کے ووٹ کے محتاج ہوتے ہیں۔ ان منتخبہ لوگوں کےہاتھوں کی طرف صدر وزیراعظم وغیرہ دیکھتےہیں اوریہ نیچےکےہاتھ ناصرف اوپرآجاتےہیں بلکہ اپنےعرصہءاقتدارکےدوران اپنےپورےوجود کی برائ کےساتھ عوامی معاملات کو دیکھتےہیں۔ ان میںسےایک ہاتھ سب کےاوپر رہتا ہےاوروہ کسی ہاتھ قانون یا ریاست کےسامنےجوابدہ نہیں ہوتا‘ ہاں ہرکوئ اس کےحضور جوابدہ رہتا ہے۔ وہ کچھ بھی کر یا کروا سکتا ہے۔ یہ معمہ حل طلب ہےکہ بھگوان ساز کمی کمین کیوں ہو جاتاہے۔ اس کےمساءل کو تھانےکچری اوردفاترکےرحم وکرم پرکیوںچھوڑدیاجاتاہے۔ بھگوان سازکو چھوٹ ملنی چاہیےجبکہ بھگوان کواس کی بےاصولی اور ناقص بھگوانی کی صورت میں تھانےکچری اوردفاترکےرحم وکرم پرچھوڑنےکی ضرورت ہوتی ہے۔
اسلام آفاقی اوردین فطرت ہے۔ یہ ہر قسم کی تفریق مٹاکرسوسائٹی میں توازن پیداکرتا ہےاور ہرکسی کو عزت احترام اور انسانی حقوق عطا کرتا ہے۔ بڑے چھوٹےکالےگورےوغیرہ کےحلقوں سےمکتی دلاتا ہے۔ اس کےضابطےاوراصول محض زبانی کلامی سےتعلق نہیں رکھتےبلکہ محمود وایازکوایک صف میں لاکھڑاکرتا ہے۔ حقوق وفراءض کے حوالہ سےکسی کو کسی معاملہ میں کسی سطح اور کسی مقام پر برتری یاچھوٹ حاصل نہیں۔ ہرکسی کو برابر کے شخصی اورانسانی حقوق حاصل ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہےکہ اصل مالک توالله ہے۔اگر کوئ کسی کو کچھ دیتاہےتواپنے پلےسے نہیں دیتا بلکہ الله کے عطا کءے گءے میں سےدیتا ہے۔ یہاں زمین پرکسی کا اپنا اورذاتی کچھ بھی نہیں۔ انسان اپنےسانسوںتک کا مالک نہیں۔ اس حقیقت کی بنیاد پر فخروافتخار کےتمام دروازےبند ہو جاتےہیں۔ یہ منہ زبانی بات نہیں اس کی تاریخ میں مثالیںموجود ہیں۔ حضرت عمرخلیفہ ثانی حضرت بلال کو “سیدنا“ کہا کرتےتھے۔ گویااسلام میں انسانی تفریق جرم کےمترادف ہے۔
اسلام صرف اور صرف صاحب تقوی کوفضیلت عطا کرتا ہے۔ اس کامطلب یہ نہیں کہ وہ حفوق میں اوروں سےبڑھ کرہوجاتاہےیا فراءض سےبری الزمہ ہو جاتاہے۔ اسےاسلام کسی بھی سطح پرالگ ترمخلوق قرارنہیں دیتا۔ فراءض کی بطریق احسن اداءگی کےسبب اسےعزت میسرآتی ہے۔ اس سےبڑھ کریہ کہ اس کی ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے۔ وہ مزید باریک اورعاجز مزاج ہو جاتا ہے۔ اس کا کردار اور جاندار ہو جاتاہے۔ وہ سوساءٹی کےلیےمثال بن جاتاہے۔ آتا وقت اسےسلام وپرنام کرتاہے۔ جس سماج میں اونچ نیچ کےلیے راہ نکل آتی ہے یا نکال لی جاتی ہےوہاں زندگی ہرسطح پر بےچین اور غیرآسودہ ہوجاتی ہے۔ پھرہرطاقت وارکےلیے چھوٹ کے رستےتلاش لیےجاتےہیں۔
چھوٹ کی سرحدیں وسیع ہونےکی میرے پاس ایک تازہ تازہ اورسانس لیتی مثال موجودہے۔ ایک اخباری اطلاع کےمطابق:
“خبریں کی خبر پر ایکشن‘ ڈیپٹی ڈاءرکٹر کالجز ظفرالله بھٹی کو عوامی مفاد کےپیش نظرتبدیل کردیاگیا‘سیکریڑی ہاءرایجوکیشن ڈیپاٹمنٹ کی طرف سےجاری کردہ چھیثی کےمطابق ڈیپٹی ڈاءرکٹر کالجز کی سیٹ پرکام کرنےوالےظفرالله بھٹی کو ان کےعہدےسےہٹادیاگیاہےاوران کی جگہ پروفیسر اشتیاق احمد چیمہ کی تعیناتی کے احکامات جاری کردءےگءے ہیں۔ ظفرالله بھٹی کےخلاف متعدد کیسزانسانی اسمگلنگ کےجرم میں قاءم کءےگءے جن کی میڈیاکوریج ہونےپراعلی حکام نے ایک تحقیقا تی کمیٹی قاءم کی جس کی رپورٹ کےبعد سیکریڑی ہاءرایجوکیشن نے ظفرالله بھٹی کوعہدےسےبرطرف کرکے پروفیسر اشتیاق احمد چیمہ کو تعینات کردیا“(روزنامہ خبریں‘روزنامہ ایکپریکس لاہور)
لیکچرار ظفرالله بھٹی تعینات ڈی ڈی سی قصور جسےبرطرف کیا گیا تھا کودوبارہ سےبحال کردیا گیا ہے۔ اس کےتین چار معنی سمجھ میں آتے ہیں:
١۔ انکواری رپورٹ غلط تھی۔ معاملےکی تحقیق میں گڑبڑکی گئ
٣۔ کوئ عوامی لیڈراپنےمفادات کےحوالہ سے سد راہ بنا۔
٣۔ باباجی کوتکلیف دی کئ اور مفت میںمرغےکی گردن ماری گئ۔
٤۔ جرم کی سزامیں بااختیارلوگوں کو چھوٹ حاصل ہےاوریہ اختیاران تک ہی محدود نہیں
سزاصرف اورصرف کمزورکامقدربن جاتی ہے۔ ایسےسماج ذلت و خواری کی دلدل میں پھنس
کراپناوجود کھو دیتےہیں۔
درگزر معافی مٹی پاؤ کےحوالہ سے بات اس لیے ہوتی رہی ہے کہ ماضی میں ایسا ہوتا رہا ہے۔ اس مٹی پاؤ برتاؤ کےباعث آج یہ نظریاتی مملکت بھوک پیاس اوراندھیروں کے جنگل میںکھوگئ ہے۔ مار دھاڑ اور لوٹ کھسوٹ زندگی کامقصد بن گی ہے۔ زندگی بےاعتبار ہو کر رہ گئ ہے۔
درگزر اور معافی بری جیز نہیں لیکن اسے چند لوگوںتک محدودرکھناکسی طرح درست نہیں۔ اس کاحلقہ وسیع ہونا چاہیے۔ معافی میںتمام کوشامل کر لینے سےاقتصادی حوالہ سےبڑافاءدہ ہوگابلکہ غیرمتوقع بچتیں ہوں گی اورکاروبارمیںتیزی آجاءےگی۔ اگرعام معافی کااعلان کردیاجاءےتواس پرکچھ خرچ نہیںآءےگا۔ ہاںاس سےبہت ساری عمارتیںخالی ہوجاءیں گی جہاں گریب عوامی لیڈر اپنے کاروبارکرسکیں گے۔ یہ عمارتیں انھیںالاٹ کردی جاءیں تاکہ آنےلوگ ان سےواپس نہ لےسکیں۔ ہردورمیںجاءدادیں اسی طرح عطاہوئ ہیں اسی طرح نوابی ان کامقدربنی اوروہ آج بھی نواب صاحب کے درجےپرفاءز ہیں۔ یہاںاس طرح کےوساءل کی کمی نہیںگویاآتےوقتوں کےعوامی لیڈر مرحوم نہیںرہیں گے۔ آج کی فکرضروری ہےکل کےلوگ اپنےمعاملات خود دیکھ لیں گے۔ وہ ہاتھ پیرعقل داؤپیچ اورگرلےکرپیداہوں گے۔ لہزا اس امرکی کی یکسر فکرنہیں ہونی چاہیے۔
عام معافی کےاعلان سےتین اوربھی فاءدےہوں گے:
١۔ قیدی اپنےاپنےکام کی طرف لوٹ سکیںگےاورانھیں مستقبل میںپکڑےجانےکاخوف نہیںہوگا۔
٢۔ ہزاروں محکمہ جیل خانہ جات کےملازمین پربےکاراٹھنےوالی رقم بچ جاءےگی اوریہ رقم عظیم ہاؤسزاوران کےباسیوں کی جان بنانےکےکام آسکےگی اوران کی ۔کار گزاری کوبہتربنایاجاسکےگا۔
٣۔ مہامنشی ہاؤس سےایک منسٹری فارغ ہوجاءےگی اس طرح اچھا خاصاعملہ فارغ ہوکرمحکمہ جیل خانہ جات کی عمارتوں کے مالکان کی خدمت سرانجام دےکرعوام کی داد و تحسین حاصل کرسکیں گےاوران کےدلوںمیںجگہ بناسکیں گے۔
سیاست دان اپنی عینک کا نمبر بدلیں |
بھگوان ساز کمی کمین کیوں ہو جاتاہے
کہاجاتاہےکہ جمہوریت کی بساط ووٹ پر کھڑی ہے۔ کتنےاورکون سےووٹ کا نتاراکہیں اورکسی سطع پر نہیںملتا۔ یہ موضوع الگ سےگفتگو کا تقاضاکرتاہے تاہم یہ طےہےکہ جمہوریت میں عوام کوکلیدی حیثیت حاصل ہے۔ موری ممبرسےلےکرقومی اسمبلی کےمبرتک ایک عام اورغریب آدمی کے ووٹ کے محتاج ہوتے ہیں۔ ان منتخبہ لوگوں کےہاتھوں کی طرف صدر وزیراعظم وغیرہ دیکھتےہیں اوریہ نیچےکےہاتھ ناصرف اوپرآجاتےہیں بلکہ اپنےعرصہءاقتدارکےدوران اپنےپورےوجود کی برائ کےساتھ عوامی معاملات کو دیکھتےہیں۔ ان میںسےایک ہاتھ سب کےاوپر رہتا ہےاوروہ کسی ہاتھ قانون یا ریاست کےسامنےجوابدہ نہیں ہوتا‘ ہاں ہرکوئ اس کےحضور جوابدہ رہتا ہے۔ وہ کچھ بھی کر یا کروا سکتا ہے۔ یہ معمہ حل طلب ہےکہ بھگوان ساز کمی کمین کیوں ہو جاتاہے۔ اس کےمساءل کو تھانےکچری اوردفاترکےرحم وکرم پرکیوںچھوڑدیاجاتاہے۔ بھگوان سازکو چھوٹ ملنی چاہیےجبکہ بھگوان کواس کی بےاصولی اور ناقص بھگوانی کی صورت میں تھانےکچری اوردفاترکےرحم وکرم پرچھوڑنےکی ضرورت ہوتی ہے۔
اسلام آفاقی اوردین فطرت ہے۔ یہ ہر قسم کی تفریق مٹاکرسوسائٹی میں توازن پیداکرتا ہےاور ہرکسی کو عزت احترام اور انسانی حقوق عطا کرتا ہے۔ بڑے چھوٹےکالےگورےوغیرہ کےحلقوں سےمکتی دلاتا ہے۔ اس کےضابطےاوراصول محض زبانی کلامی سےتعلق نہیں رکھتےبلکہ محمود وایازکوایک صف میں لاکھڑاکرتا ہے۔ حقوق وفراءض کے حوالہ سےکسی کو کسی معاملہ میں کسی سطح اور کسی مقام پر برتری یاچھوٹ حاصل نہیں۔ ہرکسی کو برابر کے شخصی اورانسانی حقوق حاصل ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہےکہ اصل مالک توالله ہے۔اگر کوئ کسی کو کچھ دیتاہےتواپنے پلےسے نہیں دیتا بلکہ الله کے عطا کءے گءے میں سےدیتا ہے۔ یہاں زمین پرکسی کا اپنا اورذاتی کچھ بھی نہیں۔ انسان اپنےسانسوںتک کا مالک نہیں۔ اس حقیقت کی بنیاد پر فخروافتخار کےتمام دروازےبند ہو جاتےہیں۔ یہ منہ زبانی بات نہیں اس کی تاریخ میں مثالیںموجود ہیں۔ حضرت عمرخلیفہ ثانی حضرت بلال کو “سیدنا“ کہا کرتےتھے۔ گویااسلام میں انسانی تفریق جرم کےمترادف ہے۔
اسلام صرف اور صرف صاحب تقوی کوفضیلت عطا کرتا ہے۔ اس کامطلب یہ نہیں کہ وہ حفوق میں اوروں سےبڑھ کرہوجاتاہےیا فراءض سےبری الزمہ ہو جاتاہے۔ اسےاسلام کسی بھی سطح پرالگ ترمخلوق قرارنہیں دیتا۔ فراءض کی بطریق احسن اداءگی کےسبب اسےعزت میسرآتی ہے۔ اس سےبڑھ کریہ کہ اس کی ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے۔ وہ مزید باریک اورعاجز مزاج ہو جاتا ہے۔ اس کا کردار اور جاندار ہو جاتاہے۔ وہ س%D
وہ دن کب آءے گا؟
بڑے آدمی کی سوچ بڑی۔ مارکونی نے سوچا ریڈیو ایجاد کر مارا۔ ریڈیو ہی وہ بنیادی ایجاد ہے جس کے نتیجہ میں ٹی وی‘ واءرلس‘ بڑے بڑے ریڈار‘ انٹرنیٹ وغیرہ وجود پذیر ہوءے۔ یہ سوچ ہی کا کمال ہے کہ نئ نئ چیزیں آج دیکھنے اور استعمال کرنے کو مل رہی ہیں۔ سوچ کے نتیجہ میں بڑی بڑی الجھی گتھیاں سلجھ جاتی ہیں اور سلجھی گتھیاں الجھ جاتی ہیں۔ گویا سوچ کے نتیجہ میں بہت کچھ ہاتھ لگتا ہے اور بہت کچھ ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ اب یہ سوچ پر انحصار کرتا ہے کہ کچھ ہاتھ سے جاتا ہے یا کچھ ہاتھ میں آتا ہے۔ شاءد ہی کوئ ہو گا جو ہاتھ سے جانے کا قاءل ہو۔ تقدیرا ہاتھ سے کچھ زیادہ ہی نکل جاءے تو یہ الگ بات ہے۔ نقصان کی صورت میں شخص اسے پورا کرنے کی سرتوڑ کوشش کرتا ہے۔ بعض اوقات اس کی نوبت نہیں آتی‘ نقصان ہوتے ہی انسان الله کو پیارا ہو جاتا ہے۔ اس کے پچھلےعرصہ دراز تک اس کی نااہلی کے قصے سناتے رہتے ہیں۔ گویا وہ بعد از مرگ بھی لوگوں میں زندہ رہتا ہے۔ نقصان ہونے کے بعد اتفاقا زندہ بچ جاتا ہے اس کے اپنے اور قبر تک ساتھ دینے کا وعدہ کرنے والے ساتھ چھوڑ جاتے ہیں اور اس کی وہ وہ خرابیاں نشر کرتے ہیں جن کا اس کو خود علم نہیں ہوتا۔
ماسٹر صاحب آنکھیں بند کءے دھوپ میں کرسی بچھا کر تشریف رکھتے تھے۔ بیگم نے بازار سے کچن کی کوئ اہم اور فوری ضرورت کی چیز لانے کو کہا۔ برہم اور تلخ ہوکر بولے دیکھتی نہیں ہو کہ میں مصروف ہوں۔ لامحالہ بیگم کو حیرانی ہونا تھی۔ اس نے ماسٹر صاحب سے زیادہ برہم اور تلخ ہو کر کہا کیا مصروفیت ہے میں تو تمہیں فارغ بیٹھا دیکھ رہی ہوں۔ بظاہر وہ غلط بھی نہیں تھی۔ میں سوچ رہا ہوں۔ کوئ بھی ماسٹر صاحب کے اس کام کو کام نہیں مانے گا حالانکہ سوچنے سے بڑھ کر کوئ اور کام نہیں ہو سکتا۔ میں پچھلے کئ دن سے علیل پڑا ہوں اور تکلیف میں ہر اگلے دن اضافہ ہی ہوا۔ بیگم دن میں دو سے زیادہ مرتبہ چیک اپ کرانے اور دوا لانے کے لیے کہتی ہیں۔ جب میں کہتا ہوں کہ میں سوچ رہا ہوں تو اسے بڑا تاؤ آتا ہے اور کہتی ہے تم ساری عمر نکمے اور تساہل پسند رہے ہو۔ ہر روز ٹی وی دیکھتی ہے اور یہ کام اس کی شروع سے پہلی اور لازمی ترجیع رہا ہے۔ اس کے باوجود چیک اپ کرانے اور دوا لانے کے لیے فرمان جاری کرتی ہے۔ لگتا ہے وہ خبریں نہیں سنتی۔ اگر اسے خبریں سننے کا اتفاق ہوا ہو تو چیک اپ کرانے اور دوا لانے کا کبھی بھی نہ کہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے اس کے دماغ میں یہ سچائ چل رہی ہو کہ ہاتھی زندہ لاکھ کا مویا سوا لاکھ کا۔ ہو سکتا ہے دوا کھانے کے فورا بعد چل بسوں ۔اس طرح وہ ٹکے جو میں گرہ خود میں رکھتا ہوں اس کے اپنے ہوں گے بلکہ بیوہ الاؤنس بھی اس کی جیب میں ہو گا۔ میرے حقوق پورا کرنے کے حوالہ احسان جتانے کی صعوبت سے مکت ہو جاءے گی۔
یہ معلوم ہو گیا ہے کہ آدم خور ادویات کونسی کمپنی تیار کر رہی ہے۔ اس کا مالک ریکارڈ میں ہو گا۔ ادویات اوکے کرنے والے سلیمانی دیس سے نہیں آءے ہوں گے۔ ادویات تیار کرنے کا جس دفتر سے پروانہ جاری ہوا ہو گا کوئ انڈر گراؤنڈ کا نہیں ہو گا۔ تمام کچھ معلوم ہونے کے باوجود بقول ڈیپٹی ڈایکٹر ایف آئ اے فلاں فلاں فلاں عمل سے گزرنے کے بعد ایف آئ آر درج ہو گی۔ چاہے اس وقت تک ذمہ داران فرار ہو جاءیں۔ اتنا کچھ سامنے آ جانے اور اتنے وساءل رکھنے کے باوجود سوچنے کو پہلا سوال لازمی کا درجہ دیا جا رہا ہے تو ماسٹر صاحب اور میرے سوچنے کو احمقانہ فعل کیوں قرار دیا جا رہا ہے۔ شاءد یہاں بھی ماڑے اور تگڑے کا رولا ہے۔
ماڑے اور تگڑے کا حوالہ گفتگو میں آ گیا ہے تو اس پر مجھے ایک حکایت یاد آ گئ۔ ایک تگڑے کے ہاں ایک ماڑا ملازمت کے لیے چلا گیا۔ انٹرویو میں کامیابی کے بعد اسےایک لاکھ روپیہ ماہانہ پر ملازم رکھ لیا گیا۔ ملازم مضبوط اعصاب کا مالک تھا‘ دل کے دورے سے بچ گیا۔ اس نے مالک سے پوچھا مجھے کام کیا کرنا ہو گا؟ مالک نے مالکانہ انداز میں کہا کام ایسا مشکل نہیں بس تمہیں اتنا سوچنا ہے کہ تمہاری تنخواہ کا اک لاکھ اور تمہیں ملازمت رکھنے کے حوالہ سے مجھے دو لاکھ روپیہ کیسے حاصل ہو سکے گا۔ اب ڈیوٹی پر جاؤ‘ وقت برباد نہ کرو۔ ہمارے ہاں کے طاقتور لوگ وقت کی بڑی قدر کرتے ہیں اور سوچنے کو کامیابی کا زینہ سمجھتے ہیں۔ لوگ کبھی بجلی کبھی گیس کبھی معالجہ کبھی پیٹرول اور پتا نہیں کیا کچھ سوچتے سوچتے ملک عدم کی راہ لیے ہیں۔ اگر سوچ ان کی موت کا سبب نہیں بنتی تو بیماری آ پکڑتی ہے۔ معالجہ نہ میسر آنے کے باوجود نہیں مرتے تو ان کے شدت پسند ہونے میں کوئ گنجاءش نہیں رہ جاتی۔ اتنا سخت جان کوئ شدت پسند ہی سکتا ہے۔ ایسا شہری بھلا کس کام کا جو اپنا ایک لاکھ اور سرکار کے دو یا اس سے زیادہ حاصل کرنے کی سوچ سوچنے میں ناکام رہتا ہے۔
کسی بڑے کے حوالہ سے کاروائ کے معاملہ میں بنیادی حقوق اور عوامی مفاد یک جا نہ ہوں تو کاروائ ممکن ہی نہیں ہوتی۔ نہ بابا مرے اور نہ بیع کی بانٹ ہو۔ بنیادی حقوق کا مجروع ہونا شخصی معاملہ ہے۔ اس سےعوامی مفاد وابستہ نہیں ہوتا اورناہی ہو سکتا ہے۔ یہ معاملہ کس مجمع کے حوالہ سے تو درست ہو سکتا ہے لیکن کسی باقاءدہ سماج کے حوالہ سے درست قرار نہیں پا سکتا۔ باقاءدہ سماج میں ایک شخص کا مفاد پورے سماج سے پیوست ہوتا ہے۔ آج صرف ایک معاملہ ایسا رہ گیا ہے جو بنیادی حقوق اور عوامی مفاد سے کوئ تعلق نہیں رکھتا۔ وہ معاملہ دھنوانوں سے ٹیکس کی وصولی یا ان کی طرف سے رضاکارانہ اداءگی ہے۔ ۔
ٹیکس کی آمدنی کمی کمین عوام کی بھلائ اور بہتری پر صرف نہیں ہوتی ۔ یہ آمدنی کمی کمین عوام کو پھڑکانے‘ اداروں اور اپنے مفادات کے حصول کے لیے دفترشاہی پر استعمال ہوتی ہے۔ ہاںاتنا ضرور ہے کہ بڑے لوگ اصلی شہریت رکھتے ہیں اور اصل عوام کے درجہ پر فاءز ہوتے ہیں اس حوالہ سے کہا جا سکتا ہے کہ ٹیکسوں کی عدم اداءگی سے بنیادی حقوق اور مفاد عامہ کو نقصان پہنچتا ہے لہذا ان پر قانون اور قانون والوں کی گرفت لازمی ہے۔
سوچ ہی کا کمال ہے کہ قانون یک چشما بنایا گیا۔ بڑوں کا کیا چاہے وہ کی بھی سطع کا کیا ہو قانون کے ہاتھوں کی پہنچ سے باہر رہتا ہے۔ قانون ان کے بنیادی حقوق کی حفاظت کرتا ہے اور انھیں اصلی عوام تسلیم کرتا ہے۔ ان کے علاوہ بنیادی حقوق اور مفاد عامہ ایک جھنڈے تلے جمع نہیں ہوتے بلکہ اس بھیڑ کے پاس جھنڈے کا تصور رہتا ہے۔ جھنڈا اور ڈنڈا سرکار کی ملکیت ہوتا ہے۔ اگر میں بھول نہیں رہا تو سرکار میں وڈیروں کے کا مے گولے اور گماشتے بھی شامل ہوتے ہیں اور یہ بڑے کام کی چیز ہوتے ہیں کیونکہ آڑے وقتوں میں وڈیروں کا کیا ان کے سر پر رکھ کر اصل ریاستی عوام کے حقوق کی رکشا کرنے کا کام سر انجام پاتا رہتا ہے۔ اگر سوچ کا عمل کمزور پڑتا تو کمی کمین عوام بھی بےسری بھیڑ نہ ہوتے بلکہ عوام ہوتے۔ بنیادی حقوق اور عوامی مفاد کو تقسیم کرو اور حکومت کرو کی صلیب پر مصلوب نہ ہوتے۔
میں سوچ کے حق میں کتنے ہی دلاءل کیوں نہ پیش کر دوں میری گھر والی نہیں مانے گی اور اس کا اصرار ہی رہے گا کہ میں چیک اپ کرا کر دوا ضرور کھاؤں۔ میں چیک اپ کے لءے تیار ہوا ہوں لیکن وہ اسے آدھا سچ مانتی ہے۔ سچ تبھی مکمل ہو گا جب میں دوا کھا کر الله کو پیارا ہو جاؤں گا۔ جب بنیادی حقوق اور مفاد عامہ دو الگ الگ چیزیں ہیں تو چیک اپ اور دوا کو دو الگ چیزیں کیوں نہیں قرار دیا جا سکتا۔ کیا کروں گھر کی عدالت اسے مانے کو تیار ہی نہیں۔ میں اپنی گھر والی کو قاءل نہیں کر سکتا کہ ریاستی قانون مانتا ہے کہ بنیادی حقوق اور مفاد عامہ دو الگ الگ چیزیں ہیں‘ باہر کون میری سنے گا۔
شاءد وہ قانون کو موم کی ناک سمجھتی ہے۔ اتنے لوگ مرے ہیں کس نے پوچھا ہے؟! میری موت کو کون سنجیدہ لے گا۔
میں اعلی شکشا منشی پنجاب کی کلرک شاہی کے ہاتھوں زبح ہو جاؤں یا دوا کھا کر مر جاؤں کسی کو کچھ فرق نہیں پڑے گا۔ اس سے مفاد عامہ پر کوئ ضرب نہیں آتی۔ اگر آتی ہے تو اس معاملے کا تعلق بنیادی حقوق سے نہیں ہو سکتا۔ اعلی شکشا منشی پنجاب کی کلرک شاہی اور میری گھروالی کا بنیادی حق ہے کہ وہ مجھے جینے دیں یا موت کے حوالے کر دیں۔ اگر مجھے سوچنے کا حق ہے تو یہ حق ان کو بھی حاصل ہے۔ الله جانے وہ دن کب آءے گا جب شخصی حق سماجی حق قرار پاءے۔
قانون ضابطے اور نورا گیم
اشفاق کی کل برات جانا تھی کہ اس کی ہمشیرہ کا سسر چل بسا۔ اشفاق کو اس کی اس ناشایستہ حرکت پر بڑا غصہ آیا۔ جل کر بولا چاچے کو جیتے جی چھیتیاں رہی ہیں اب مرنے کے معاملہ میں بھی بڑا جلدباز ثابت ہوا ہے۔ اشفاق کا سٹپٹانا عمل ناجاءز نہیں لگتا لیکن ہونی کے کون سر آ سکتا ہے۔ ہونی ویدی ہے اور ویدی کا ویدان کسی کے بس میں نہیں ہوتا۔ ہونے کو تو ہر حال میں ہونا ہی ہوتا ہے تاہم تحمل میانہ روی اور سوچ سمجھ سے کام لینا آتے کل کو آسودہ رکھتا ہے۔ ہما کے سسر نے جانے کتنے دن اس انتہائ اقدام کے لیے سوچا ہو گا۔ اشفاق کا معاملہ بھنگ ہوا اس سے ہما کے سسر کو کیا مطلب ہو سکتا تھا۔
ہر کوئ اپنی ترجیع کو اولیت دیتا ہے‘ دینی بھی چاہیے لیکن فریق ثانی کو تو پابند نہیں کیا جا سکتا۔ فریق ثانی اگر ماڑا ہے تو وہ مجبوری کے تحت خفیہ ہو سکتا ہے۔ اس میں سچا یا جھوٹا ہونے کا کوئ سوال ہی نہیں اٹھتا۔ ہر کوئ سامنے سے وار کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتا۔ یہ فطری سی بات ہے کہ دو متصادم فریق طاقت کے حوالہ سے ایک ہی کیلیبر کے نہیں ہو سکتے۔ ایک ہی کیلیبر کے ہونے کی صورت میں ان کے درمیان تصادم نہیں ہو گا۔ ان کا ہر اگلا دن منگل ہو کا اور منگل ناغے کا دن ہوتا ہے۔ طاقت حق پر ہوتی ہے اور اسے اپنا اور اوروں کا غصہ ماڑے پر آتا ہے۔ آنا بھی چاہیے ماڑا ہوتا کس لیے ہے۔
دہشت گردی بلا شبہ پوری انسانیت کے جسم پر ناسور کا درجہ رکھتی ہے اور اس کا ہر حال میں ختم ہونا امن آسودگی اور سکون کے لیے ضروری ہے لیکن یہ طے کرنا ابھی باقی ہے کہ دہشت گردی ہے کیا اور امریکہ کس قسم کی دہشت گردی کے خلاف پاکستان سے یمن تک لڑ رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ القاءدہ دہشت گردی کے خلاف لڑ رہا ہے اور وہ القاءدہ کو نہیں چھوڑے گا۔ جعلی ادویات سے لوگ مرے ہیں اور مرتے رہتے ہیں یہ کاروبار دہشت گردی نہیں ہے؟ اس کے خلاف کیا ہوا اور کیا ہو سکتا ہے‘ سب جانتے ہیں۔ جعلی سپرے خریدا گیا معاملہ کورٹ کچہری گیا‘ کیا ہوا۔۔۔۔۔ سب جانتے ہیں‘ کچھ بھی نہیں۔ ڈینگی نے تن مچاءے رکھی‘ آتے موسم میں کیا گل کھل سکتا ہے کوئ پوشیدہ بات نہیں۔ مہامنشی‘ جیون دان منشی‘ اعلی شکشا منشی‘ منشی بلدیات وغیرہ کے خلاف کیا ہوا‘ سب جانتے ہیں‘ کچھ بھی نہیں ہوا۔ اگر یہ داخلی کاروباری دہشت گردی ہے اور اس دہشت گردی سے خود پاکستان کو لڑنا ہے تو القاءدہ کس حوالہ سے خارجی دہشت گردی ٹھرتی ہے۔ القاءدہ جانے اور پاکستان جانے‘ یہ کس طرح امریکہ بہادر کی سردردی قرار پاتی ہے۔
اشفاق کے ساتھ ہونے والی دہشت گردی داخلی بھی ہے اور خارجی بھی۔ اگر طبی امداد باہم کرنے میں محکمہ جیون دان پھرتی دکھاتا اور غفلت سے کام نہ لیتا تو ہو سکتا ہے ہما کا سسر چند روز اور جی لیتا۔ ہما کے سسر کی موت کا مدا خارجی دہشت گردی کے حوالہ سے امریکہ پر بھی نہیں ڈالا جا سکتا کیونکہ وہ صرف اور صرف القاءدہ دہشت گردی کا ٹھکیدار ہے۔ تاہم بقول صدر آصف علی زرداری دنیا کا مستقبل جمہوریت میں ہے۔ ہما کے سسر کی موت کو ایک اکثریت تسلیم کر چکی ہے۔ اس حوالہ سے اسے داخلی یا القاءدہ سے متعلق دہشت گردی نہیں فرض کیا جا سکتا۔ اس نہج کی دہشت گردی کے خلاف کسی قسم کا ایکشن لینا امریکہ کے کھاتے میں نہیں رکھا جا سکتا۔ یہ سراسر جمہوریت کی تو ہین ہو گی جو اس جمہوری دور میں بہت بڑے جرم کے مترادف ہے۔ غداری کا فتوی بھی صادر ہو سکتا ہے۔
مسجد کی تعمیر کا مہشورہ ہوا۔ گاؤں کے لوگ جمع ہوءے جن میں نورا بھی شامل تھا۔ ہر کسی نے حب توفیق اپنا حصہ لکھوایا۔ ابھی کافی لوگ موجود تھے لکھت پڑھت پر وقت لگ جاتا۔ نورا دھڑلے سے اٹھا اور بولا لکھو میرا پچاس ہزار۔ اس کی اس فراخ دلی پر بڑی جءے جءے کار ہوئ۔ ہر کوئ چوہدری نور محمد صاحب کو جھک جھک کر سلام و پرنام کر رہا تھا۔ مزید اگراہی کی ضرورت ہی نہ تھی لہذا مجلس برخواست ہو گئ۔ اگلی صبح مولوی صاحب چند لوگوں کے ساتھ چوہدری نور محمد صاحب کے در دولت پر جا پہنچے۔ چوہدری نور محمد صاحب بڑی شان سے باہر نکلے۔ مولوی صاحب نے پچاس ہزار رپوؤں کا تقاضا کیا۔ چوہدری نور محمد صاحب بڑی معصومیت سے بولے
“کون سے پچاس ہزار روپیے؟“
“وہی جو آپ نے کل لکھواءے تھے۔“
“وہ دینے بھی تھے؟“ چوہدری نور محمد صاحب نے بڑی حیرت سے پوچھا
“جی ہاں“
“ارے میں تو سمجھا تھا کہ صرف لکھوانے ہیں۔“
اس مثال کے حوالہ سے بھی ہم کسی پر دہشت گردی کا الزام نہیں رکھ سکتے کہ کرنا اور کہنا قطعی دو الگ چیزیں ہیں۔ کاروباری دہشت گردی کے لیے سرکاری پروانے جاری ہوتے ہیں اس لیے جعلی ادویات خوری سے لوگ مرے ہیں تو اس میں کاروباری دہشت گردی کس طرح ثابت ہوتی ہے۔ ایک نمبر کاروبار میں بچت ہی کیا ہوتی ہے۔ لوگ ملاوٹ آمیز غذا کھا کر تل تل مرتے ہیں۔ مرتے تو ہیں نا! یہاں فورا مر گءے۔ ایک دن مرنا تو ہے ہی‘ دو دن پہلے کیا دو دن بعد میں کیا۔ اپنی اصل میں بات تو ایک ہی ہے۔
ادویات لاءسنس کے بغیر تو تیار نہیں ہوئ ہوں گی۔ موت ٹھوس اور اٹل حقیقت ہے لوگ ادویات سے نہ مرتے تواپنی آئ سے اناللله ہو جاتے۔ اقتدار میں آنے سے پہلے وعدہ باز بہت کچھ کہتے آءے ہیں۔ اقتدار میں آکر انھوں نے عوام کے لیے کبھی کچھ کیا ہے۔ نہیں۔ ان کے نہ کرنے کے خلاف کبھی کوئ قابل ریکارڈ رولا پڑا ہےِ؟ نہیں‘ بالکل نہیں۔ تو اب کیوں شور مچایا جا رہا۔ سرکاری معاملہ ہے۔ این آر او کے تحت اس مدے پر مٹی ڈالنا ہی جاءز اور مناسب بات لگتی ہے۔
مولانا فضل الرحمن کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزیر اعظم معاملات پر تجاوز مانگ تو لیتے ہیں‘عمل درامد نہیں کرتے۔ مولانا پرانے سیاسی اور مذہبی لیڈر ہو کر بھی اس قسم کی باتیں کرتے ہیں۔ دل پر ہاتھ رکھ کر بتاءیں آج تک کبھی ایسا ہوا ہے کہ کسی لیڈر کا کرنا اور کہنا مساوی رہا ہو ۔ یہ دو الگ سے امور ہیں لہذا انھیں الگ الگ خانوں میں رکھ کر سوچنا اور زیر بحث لانے کی ضرورت ہے اور کسی سطع پر آلودگی نہیں ہونی چاہیے ورنہ خرابی اور فساد کا دروازہ کھل جاءے گا یا کسی مذہبی کے کہنے اور کرنے میں کسی بھی سطع پر توازن ملتا ہو۔ یہ بات بالکل ایسی ہی ہے کہ کوئ آدمی بستر پر سو بھی رہا ہو اور دفتر میں کام بھی کر رہا ہو۔ کہنے اور کرنے کو دو الگ حتیتیں دی جاءیں گی تو خرابی جگہ نہ پا سکے گی۔ کہہ کر نہ کرنا ہی تو نورا گیم ہے۔ اگر نورا خاموش رہتا تو جءے جءےکار کیسے ہوتی اور وہ نورا سے چوہدری نور محمد کیسے اور کن بنیادوں پر کہلاتا؟!
ان حقاءق کے تناظر میں اشفاق کو بھی این آر او قانون اور سرکاری ضابطے کو بھولنا نہیں چاہیے اور اپنی بہن کے سسر کی موت پر مٹی ڈالنی چاہیے۔
Kya masael ka hal jamhoriat main hai?!
مولانا فضل الرحمن دنیا ٹی وی پر بڑی دھواںدار تقریر فرما رہے تھے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ اس میں دھواں اپنی انتہاؤں پر تھا۔ خیر دھار بھی مفقود نہ تھی۔ مولانا ہو کر بھی جمہوریت کی حمایت فرما رہے تھے۔ جمہوریت کیا ہے‘ محض افراد کا کم یا زیادہ ہونا۔ اگر افراد کا زیادہ ہونا درستی اور حق کا معیار ہے تو کوئ نبی اور شہید حق پر نہیں ٹہرتا۔ ساری دنیا یہ کہہ دے کہ سورج شمال سے نکلتا ہے تو بھی اسے سچ حق اور درست نہیں کہا جا سکتا۔ سورج مشرق سے طلوع ہوتا ہے یہی سچ حق اور درست ہے۔ سچ حق اور درست نہ اس سے زیادہ اور نہ کم ہے۔ اس قماش کی جمہوریت امریکہ وغیرہ کے لیے سچ حق اور درست ہو سکتی ہے لیکن سچ حق اور درست کا اس سے مختلف معیار رکھنے والوں کے یہ وارہ کی چیز نیں ہے۔
میں نے کئ الیکشن بطور پریذڈنگ افسر ڈیوٹی سرانجام دی ہے ہر ڈیوٹی میرے شکم ناہنجار کی مجبوری تھی ۔ ووٹ ڈالنے کے لیے آنے والوں میں زندہ لاشوں کے بھی ووٹ کاسٹ ہوءے۔ خریدے گءے ووٹ ڈالواءے گءے۔ چوہدری کے گولوں کے لاءے گءے ووٹ کاسٹ کروانا پڑے۔ گویا پولنگ اسٹیشن بکرا منڈی یا پھر چنڈوخانے رہے ہیں۔ بکرا منڈی یا پھر چنڈوخانے اگر حق اور سچ کا پیمانہ ہیں تو ترقی بہبود بہتری اور خیر کے شبد منہ سے نہ نکا لے جا۔ءیں۔ جمہوریت حق اور سچ کے منہ پر غلاظت ملنے کے مترادف چیز ہے۔ اسے حق اور سچ ماننا انسان اور انسانی اقدار کے ساتھ کٹھور ظلم اور ناانصافی ہے۔ الله جانے مولانا صاحبان چھوٹی اور بڑی برائ کے کیوں قاءل ہو گیے ہیں۔ برای چھوٹی ہو یا بڑی اس کاساتھ دینا حمایت کرنا یا کسی بھی حوالہ سے تسلیم کرنا خرابی ظلم اور ناانصافی کے لیے دروازہ کھولنا ہے۔
مولانا صاحب کے نزدیک جاگیردار اور سرمایہ دار استعمار کی باقیات ہیں لہذا غریوں کو میدان میں لایا جاءے۔ یہ سو فیصد درست ہے کہ جاگیردار اور سرمایہ دار استعمار کی باقیات ہیں لیکن یہ درست نہیں کہ غریب طبقہ خوشحالی لا سکتا ہے۔ یہ طبقہ اگر اقتدار میں آ کیا تو سب سے پہلے اپنا پیٹ بھرے گا اس کے بعد بھی اپنا ہی پیٹ بھرے گا اور پھر اپنوں کا پیٹ بھرے گا۔ دوسری بات یہ کہ جاگیردار اور سرمایہ دار ان کے پاؤں زمین پر آنے دے گا؟! نہیں‘ بالکل نہیں۔ خربوزہ اوپر ہو یا نیچے’ چھری کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا‘ کٹنا اسے ہی پڑے گا۔
بہتری اور خوشحالی کی توقع ایماندار اور صاحب تقوی لوگوں سے کی جا سکتی ہے۔ دوسرا زندگی کے تمام شعبوں سے متعلق لوگوں کو اقتدار میں لایا جاءے۔ مثلا صحت کی منسٹری ڈاکٹر ہی بہتر طور پر چلا سکتا ہے۔ ایجوکیشن منسٹری‘ تعلیم سے متعلق لوگوں کے حوالے کی جاءے۔ اسی طرحمولانا صاحب کے نزدیک جاگیردار اور سرمایہ دار استعمار کی باقیات ہیں لہذا غریوں کو میدان میں لایا جاءے۔ یہ سو فیصد درست ہے کہ جاگیردار اور سرمایہ دار استعمار کی باقیات ہیں لیکن یہ درست نہیں کہ غریب طبقہ خوشحالی لا سکتا ہے۔ یہ طبقہ اگر اقتدار میں آ کیا تو سب سے پہلے اپنا پیٹ بھرے گا اس کے بعد بھی اپنا ہی پیٹ بھرے گا اور پھر اپنوں کا پیٹ بھرے گا۔ دوسری بات یہ کہ جاگیردار اور سرمایہ دار ان کے پاؤں زمین پر آنے دے گا؟! نہیں‘ بالکل نہیں۔ خربوزہ اوپر ہو یا نیچے’ چھری کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا‘ کٹنا اسے ہی پڑے گا۔
بہتری اور خوشحالی کی توقع ایماندار اور صاحب تقوی لوگوں سے کی جا سکتی ہے۔ دوسرا زندگی کے تمام شعبوں سے متعلق لوگوں کو اقتدار میں لایا جاءے۔ مثلا صحت کی منسٹری ڈاکٹر ہی بہتر طور پر چلا سکتا ہے۔ ایجوکیشن منسٹری‘ تعلیم سے متعلق لوگوں کے حوالے کی جاءے۔ اسی طرح دوسرے شعبے متعلق لوگوں کے سپرد کءے جاءیں تا کہ غیر متعلق لوگوں کی لا علمی سے کوئ فاءدہ نہ اٹھا سکے۔
کام کا آغاز پنجاب سے کیا جاءے جہاں ان لوگوں نے اندھیر مچا رکھا ہے۔ یہ کلونجی یا شہد نہیں ہیں۔ الله ان کی کارستانیوں سے ویری دشمن کو بھی محفوظ رکھے۔ شیر‘ شیر کیوں ہے‘ اس لیے کہ ہاتھی گھاس خور ہے۔ منشی ہاؤس کے عوامی خادم‘ مخدوم کیوں ہیں کیونکہ وزرا اور مشیر فاءل ورک سے نابلد ہیں۔ پنجاب کے اعلی شکشا منشی کی آڑھٹ سے متعلق ایک واقعہ یاد آ گیا ایک صاحب نے اپنے تبادلے کے لیے درخواست گزاری۔ درخواست کے ساتھ علالت نامہ‘ سی ایم ڈاریکٹو اور منسٹر ایجوکیشن کی سفارش بھی تھی۔ یہی نہیں درخواست بابائ تھی۔ اس کے باوجود درخواست نامراد رہی کیونکہ ان سے بڑا بابائ آڑے آگیا۔ فاءل غاءب کر دی گئ تھی۔ وٹک کے بعد درخواست اعلی شکشا منشی کے پاس کانی گنجی ہو کر پہنچی۔ کانی گنجی درخواست پر کیا ہو سکتاہے۔اسی حوالہ سے کسی نے کیا خوب کہا ہے:
میرا ڈھولن ماہی اک پاسے بابے دی بابائ اک پاسے
پارلیمان قانون بنانے کے لیے ہوتی ہے لیکن یہاں آج تک ایک قانون نہیں بن سکا۔ مارشل لا ختم ہو کر بھی ختم نہیں ہو سکا۔ مارشل لا آرڈینس آج بھی قانون کے درجے پر قاءز ہیں۔ کسی الہامی کتاب کے ضابطے کو کوئ حثیت حاصل نہیں ویسے اس ملک کا نام نامی اسم گرامی اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے لیکن اسلام ذاتی معاملہ سے زیادہ حثیت کا حامل نہیں۔
ایک ایسی کونسل تشکیل دی جاءے جو تعلیم یافتہ ہو اور اس کی ڈگریاں جعلی نہ ہوں‘ ایمانداری عوامی حلقوں میں معروف ہو اور کسی قسم کے دباؤ کے زیر اثر نہ ہو۔ محمودوایاز کا عملی طور پر ایک صف میں کھڑاکرنا یا ہونا آج کی پہلی اور آخری ضرورت ہے۔ یہ کیا ہوا ایک طرف دولت کا شمار نہیں دوسری طرف دو وقت کی روٹی میسر نہیں۔ جرم کے معاملہ میں کسی کو بڑا یا طاقتور ہونے کے سبب چھوٹ نہیں ہونی چاہیے۔ امریکی صدر کی اہلیت کے حوالہ سے طلبی تھی وہاں چھوٹ کے حوالہ سے کوئ بات نہیں اٹھی۔ ہم امریکی جمہوریت کے بندے ہیں اس حوالہ سے ہمارے ہاں کوئ عملی یا زبانی صورت مجود نہیں۔ جمہوریت کا دوہرا معیار لوگوں کی سمجھ سے بالاتر ہے۔ یہ کونسل پارلیمان کے لیے زندگی کے مختلف شعبوں سے نماءندے منتخب کرے۔ موجودہ سیاسی نماءندوں نے اپنی اور اپنے سیاسی نظام کی ایمانداری کی قلعی کھول دی ہے لہذا اس پر گفتگو کرنا معنویت سے تہی ہے۔
موجودہ سیاسی نماءندے جو بے پناہ عوامی دولت کے مالک و وارث ہیں اگر پاکستان اور اس کے عوام کےاتنے ہی خیر خواہ ہیں تو ان کی کی بہبود اور بہتری کے لیے اپنی دولت بیرونی قرض چکانے کے لیے پیش کیوں نہیں کر دیتے
کہہ کر کیوں کرے کوئ
“وزیر برقیات کے اعلان کے باوجود مختلف شہروں میںلوڈشیڈنگ”
یہ خبر میری اس تحریر کے بعد شاءع ہوئ جس میں‘ میں نے کہا تھا کہ کہنا اور کرنا دو الگ چیزیں ہیں۔ اس تحریر کے باوجود اس خبر کا شاءع ہونا اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ خبر نویس اس حقیقت سے بےخبر ہے یا پھر وہ پرتھوی پر بسیرا نہیں رکھتا اور سہانے خوابوں کے دیس کا اقامتی ہے۔ ایسا بھی ممکن ہے کہ اس تک میری ناچیز تحریر رسائ حاصل کرنے میں ناکام رہی ہو۔ یا پھر میں اپنا مافی الضمیر بیان کرنے میں ناکام رہا ہوں۔ جو بھی ہے صحیح نہیں ہے۔ دوبارہ سے کوشش کرتا ہوں شاءد اب کہ سمجھانے میں کامیاب ہو جاؤں۔
کہنا اور کرنا اپنی حیثیت میں دو الگ چیزیں ہیں۔ ان کے مابین لامحدود فاصلے ہیں۔ بذات خود بجلی دیکھنے میں ایک ہو کر بھی ایک نہیں۔ متعلقہ پواءنٹ تک پہنچنے کے لیے دو تاروں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک ٹھنڈی تار دوسری گرم تار۔ دونوں تاروں کےالگ الگ رہنے میں ہی عافیت اور سلامتی ہوتی ہے۔ ہر سوءچ میں ان دونوں کے لیے الگ الگ پواءنٹ ہوتے ہیں۔ اگر یہ دونوں تاریں باہمی اختلاط کر لیں تو بہت بڑا کھڑاک ہو سکتا ہے۔ اس ٹھاہ کے نتیجہ میں جان بلکہ جانیں جا سکتی ہیں۔ بالکل اسی طرح کہنا اور کرنا گلے مل جاءیں تو مالی نقصان وٹ پر ہوتا ہے۔ نقصان جانی ہو یا مالی‘ نقصان ہی ہوتا ہے اور نقصان کی کسی بھی سطع پر حمایت نہیں کی جا سکتی۔
سکول کالج یہاں تک کہ یونیورسٹی میں کتابی تعلیم دی جاتی ہے۔ کامیاب طالب علم کو متعلقہ علم کی سند یا ڈگری دی اتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ڈگری ہولڈر اس علم کی کامل جانکاری حاصل کر چکا ہے۔ اس سند یا ڈگری کے باوجود ڈگری یافتہ عملی طور پر صفر ہوتا ہے۔ اس کے برعکس عملی تجربہ رکھنے والا ڈگری یافتہ سے کرنے میں کمال کے درجے پر فاءز ہوتا ہے حالانکہ ڈگری یافتہ کرنے سے متعلق باتیں بار بار پڑھ بلکہ توتے سے بڑھ کر رٹ چکا ہوتا ہے۔ دونوں کے نام الگ سے ہوتے ہیں۔
کہنے کو تھیوری جب کہ کرنے کو پریکٹیکل کا نام دیا جاتا ہے اور یہ ایک دوسرے سے قطعی طور الگ ہیں۔ یہ درست سہی پڑھے کو عملی آزمایا جاتا ہے۔ گویا پڑھنا پہلے اور آزمانا بعد میں ہے۔ میں کہتا ہوں کرنا پہلے ہے اور کہنا یا آزمایا بعد میں ہے۔ ہمارے ہاں ایک ان پڑھ آدمی بڑے کمال کے کام سر انجام دے رہا ہے۔ نہیں یقین آتا تو بلال گنج میں جا کر دیکھ لیں۔ شکاگو یونیورسٹی کا ایک ساءنس کا پروفیسر وہ کام نہیں کر سکتا جو کام بلال گنج کا ان پڑھ خرادیا دے سرانجام سکتا ہے۔ اسے کہیں یہ ہے ایف سولہ ذرا اس سے بہتر بنا دو‘ بنا دے۔ ڈالرز میں ملنے والے سوفٹ ویءر یہاں بازار سے ان کی سی ڈی بیس رویے میں مل جاتی ہے۔ ہے نا کرنا اور کہنا ایک دوسے سے الگ تر؟!
جو کرتے ہیں وہ بولتے نہیں۔ جو بولتے ہیں وہ کرتے نہیں۔ اس طرح دوہرا یعنی کرنا اور کہنا بوجھ بن کر سر پر آ جاتا ہے۔ کوئ بھی دوہرا بوجھ اٹھا نہیں سکتا۔ کیا‘ بقلم خود بولتا ہے کہ میں ہوں کیا ہوا۔ غالبا یہ شعر بھیکا کا ہے:
بھیکا بات ہے کہن کی کہن سنن میں ناں جو جانے سو کہے نہ کہے سو جانے ناں
کہہ کر کیا تو کیا کیا۔ کیا وہی اچھا ہے جو کہا نہ جاءے۔ کرکے کہنا تو احسان جتانے والی بات ہے۔ احسان جتانا سے بڑھ کر توہین آمیز بات ہی نہیں۔ ہمارے لیڈر اتنے بھی گءے گزرے نہیں ہیں جو احسان جتاءیں۔ اسی بنیاد پر ہی وہ صرف کہتے ہیں‘ کرتے نہیں۔ وہ خوب خوب جانتے ہیں کہ کرنے کے لیے کہنے کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ ان کے نزدیک کیے کی خبر دوسرے ہاتھ تک کو نہیں ہونی چاہیے۔ جو وہ کرتے ہیں لوگوں کو خبر تک نہیں ہو پاتی۔ جب لوگوں کو خبر ہوتی ہے وقت بہت آگے نکل گیا ہوتا ہے۔
کوئ بےبابائ کام کسی بڑی سفارش کے ساتھ جہاں کہیں نازل ہوتا ہے اس کی زبانی کلامی سہی‘ پذیرائ تو ہوتی ہے۔ اس کے ہونے کی یقین دہانی بھی کرائ جاتی ہے۔ امید بلکہ یقین کے چراغ بھی جلاءے جاتے ہیں۔ بعض اوقات لڈو بھی بانٹے جاتے ہیں۔ بےبابائ ہونے کی پاداش میں وہ کام نہیں ہو پاتا۔ اس مقام پر ناراض ہونا یا مایوس ہونا نہیں بنتا کیونکہ کرنا اور کہنا دو الگ باتیں ہیں۔
ایم این ایز یا ایم پی ایز یا منسٹرز لوگوں کی درخواستوں پر سفارشی کلمات لکھتے ہیں۔ یہاں وہ دونوں فریقوں کی درخواستوں پر سفارشی کلمات ایک ہی طرح سے ثبت کرتے ہیں۔ وہ تو دیالو اور کرپالو مخلوق ہوتے ہیں۔ وہ کسی کو کیسے مایوس کر سکتے ہیں۔ اس حوالہ سے کسی کا کام ہو یا نہ ہو اس سے انھیں کوئ مطلب نہیں ہوتا کیونکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ سفاش اور کام کا سر انجام پانا دو الگ سے باتیں ہیں۔ سفاش اور کام کا ہونا اختلاط پذیر نہیں ہونے والے ۔ ان کی الگ الگ اہمیت حیثیت اور ضرورت ہے۔
ایک ماں اور ایک باپ کی اولاد اپنی اپنی روٹی پکاتے ہیں۔ وہ سگے بھائ ہوتے ہیں۔ روٹئ سالن ایک رنگ روپ رکھتا ہے۔ ساتھ نبھانے کا وعدہ بھی کیا گیا ہوتا ہے۔ سگا ہونا یا وعدے میں بندھے ہونا یا روٹی کا رنگ روپ ایک ہونا اپنی جگہ لیکن نبھانا دو الگ باتیں ہیں۔ انھیں ایک دوسرے سے نتھی نہیں کیا جا سکتا اور ناہی کیا جانا حقیقت سے تعلق رکھتا ہے۔
پنجاب جو سب سے بڑا صوبہ ہے کی منشی شاہی سب سے زیادہ شریف‘ تحمل مزاج‘ بردبار اور زیرو رفتار ہے نہ یہ کچھ کہتی نہ کرتی ہے۔ یہ ہونے کے ہر کام کی راہ میں دیوار بن جاتی ہے۔ چونکہ قلم، اٹکل اور داؤ و پیچ اس کی زنبیل میں پناہ گزیں ہوتے ہیں اس لیے ہوتے بھی نہیں ہوتے۔ اس کی تحمل مزاجی اور زیرو رفتاری ہی وہ بڑا کارنامہ ہے کہ ہم روزاول سے بھی بہت قدم پیچھے کھڑے بھوک پیاس اور موت کی ہولی بڑی بےبسی اور بےکسی سے دیکھ رہے ہیں۔ یوں لگتا دیکھنا ہمارا مقصد حیات ہے۔
وزیر عوامی لوگ ہوتے ہیں اس لیے عوام کی بہبود ان کے پیش نظر رہتی ہے۔ وہ نہیں چاہتے لوڈ شیڈنگ ختم کرکے بجلی کے بل لوگوں کی جیب سے تجاوز کر جاءیں اور پھرلوگ لوڈ شیڈنگ کرنے کے لیے سڑکوں پر آ کر ذلت و خواری کا منہ دیکھیں۔ وہ بجلی کے بل اور لوڈشیڈنگ کی جدائ کو عوامی بہبود کے برعکس سمجھتے ہیں۔
مفروضوں میں زندگی کرنے کا عہد ہے۔ عین ممکن ہے یہ اخباری خبر ہاوسز سے متعلق ہو جہاں اتفاقا کسی فنی خرابی کے سبب بجلی دو چار لمحوں کے لیے کبھی کبھار چلی جاتی ہے۔ بڑے لوگوں کے بڑے کام۔ وہ مخاطب چھوٹے لوگوں سے ہوتے ہیں لیکن وعدے بڑے لوگوں کے ساتھ کر رہے ہوتے ہیں۔ بلند سطع پر کیفیت مختلف ہوتی ہے۔ اس لیے وہاں ٹھنڈی اور تتی تاروں کا رولا باقی نہیں رہتا۔ وہاں کرنا اور ہونا دو نہیں رہتے۔ سچی درویشی یہی ہے کہ میں تو میں مدغم ہو کر میں بن جاتی ہے اورپھر زندگی میں میں کے سوا کچھ نہیں رہتی۔
خدا بچاؤ مہم اور طلاق کا آپشن
خدا بچاؤ مہم کا بڑی ہوشیاری اور چالاکی سے آغاز کیا گیا۔ کسی نے اس جانب توجہ ہی نہ کی کہ خدا تو سب کو بچانے والا ہے۔ وہ ہر گرفت سے بالا ہے۔ پوری کاءنات اس کی محتاج ہے اور وہ کسی کا محتاج نہیں۔ اگر وہ خدا منکر لوگوں کا رب نہ ہوتا تو وہ سارے کے سارے بھوک پیاس سے مر جاتے۔ وہ تو ساری کاءنات کا مالک و خالق ہے۔ یہی نہیں وہ تو اپنی مرضی کا مالک ہے۔ اسے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں بلکہ ہر کوئ اس کی مرضی و منشا کے تابع ہے۔ کسی نے یہ غور کرنے کی زحمت ہی گوارہ نہ کی کہ ہمارا اور ان کا خدا ایک ہی ہے لیکن ہمارے اور ان کے خدا میں زمین آسمان کا نظریاتی فرق ہے۔ ان کا خدا تین میں تقسیم ہے جب کہ ہمارا خدا تین نہیں‘ ایک ہے۔ وہ تقسیم کے نقص سے بالا ہے۔
خدا بچاؤ مہم کے لیے اسلحہ اور ڈالرز کی بارش ہو گئ۔ خدا بچاؤ مہم میں شامل لوگ مالا مال ہو گءے۔ وہ شیطان کے بہکاوے میں آ گءے تھے۔ وہ شیطان کی ہولناک چال کو سمجھ نہ سکے۔ خدا بچاؤ مہم میں ان گنت بچے بوڑھے عورتیں اور گھبرو جوان جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ وہ تو ان موت کے گھاٹ اترنے والوں کا بھی خالق ومالک ہے۔ خدا بچاؤ مہم کے ڈالر خوروں کو رجعت پسند‘ شر پسند اور بنیاد پرست کہہ کر زندگی سے محروم کیا گیا۔ خدا بچاؤ پتہ ناکام ٹھرا ہے تو ازدواجی رشتہ ہونے کا دعوی داغ دیا گیا ہے۔
طلاق یقینا بہت برا فعل ہے۔ اہل دانش تو الگ رہے‘ مذاہب نے بھی اس کی آخری حد تک ممانعت کی ہے۔ طلاق کے نتیجہ میں سماجی سطع پر خرابی آتی ہے۔ دو برادریوں میں دشمنی چل نکلتی ہے۔ اس طلاق دشمنی کے نتیجہ میں آتے کل کو کوئ بھی خطرناک صورتحال پیش آ سکتی ہے۔ بات محدود نہیں رہتی۔ بےگناہ‘ غیر متعلق اور بعض اوقات صلع کار بھی اس کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں۔ پھر بجھاءے نہ بنے والی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔
ایک اخباری اطلاع کے مطابق امریکہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات میں طلاق کا آپشن موجود ہی نہیں۔ امریکہ کا یہ بیان پاک امریکہ دوستی کے اٹوٹ ہونے کا زندہ ثبوت ہے۔ یہی نہیں یہ اس کی سماج اور مذہب دوستی کا بھی منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کمبل سے چھٹکارے کی کوشش کرو گے تو بھی کمبل خلاصی نہیں کرے گا۔ اس کمبل کی گرمایش اتنی ہے کہ اس کے بغیر بن نہ پاءے گی۔ امریکی چوری کا سواد اور چسکا ہی ایسا ہے کہ کم بخت لگی منہ سے چھٹتی نہیں۔ میں نے یہ تیر ہوا میں نہیں چلایا۔ اس کے بہ ہدف ہونے کا ثبوت کیمرون کا یہ ٹوٹکا ہے کہ پاکستان کے سیاستدان نہیں چاہتے کہ امریکی ان کے ملک سے واپس جاءیں۔
دنیا کا کوئ بھی اولاد والا طلاق کی حمایت نہیں کرے گا۔ یہاں یہ واضح نہیں کون کس کو طلاق دے گا۔ ہمارے ہاں زیادہ تر مرد‘ عورت کو طلاق دیتا ہے۔ کیمرون کا بیان واضح کرتا ہے کہ پاکستانی سیاست دان امریکہ کو طلاق نہیں دینا چاہتے۔ گویا امریکہ کو ان کی ایسی کوئ خاص ضرورت ہی نہیں بلکہ ان کو چولہا چونکا چلانے کے لیے امریکہ کی ضرورت ہے۔ یہاں کی سماجی روایت کے تناظر میں دیکھا جاءے تو طلاق کا حق پاکستان کے پاس ہے۔ مرد چاہے نامرد ہو‘ اسے عورت نہیں کہا جا سکتا۔ سیاست دانوں کی یہ غنڈہ نوازی ہے کہ جھوٹ موٹھ سہی‘ ہم پاکستانی مردوں میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ طلاق کے معاملے کا فقط ایک پہلو ہے۔ مغرب میں عورتیں مردوں کو طلاق دیتی ہیں۔اس حوالہ سے طلاق دینے کا حق امریکہ کے پاس چلا جاتا ہے۔ طلاق کا حق ان کے پاس ہو یا ان کے پاس‘ ہم پاکستانی مرد ضرور قرار پاتے ہیں اور یہ ہمارے لیے کمال فخر کی بات ہے کہ ہم نام کے سہی‘ مرد ہیں۔
اس حوالہ سے بات نہیں کروں گا کہ زندگی پر حکومت عورت کرتی ہے۔ مرد زبانی کلامی دبکاڑے اور بڑکیں مارتا ہے۔ لیکن بیگم کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوتا ہے۔ جہانگیر کے سارے فیصلے‘ نور جہان کے فیصلے ہیں۔ مرد جو باہر ناسیں پھلاتا ہے لیکن گھر میں صرف اور صرف بطور پانڈی داخل ہوتا ہے۔ کسی معاملہ میں بیگم کی سفارش آ جانے کے بعد اپنا طرز تکلم ہی بدل لیتا ہے۔ جو بھی سہی مرد‘ مرد ہوتا ہے۔ اس کی انا اور سطع بلند ہوتی ہے۔ میں پہلے کہہ چکا ہوں اس معاملے پر گفتگو نہیں کروں گا۔ طلاق کا نقطہ اس امر کی کھلی وضاحت ہے کہ ہم مرد ہیں۔ کیا ہوا جو مردانہ قوت میں ضعف آ گیا ہے۔ یہ ضعف پیدایشی نہیں اس لیے قابل علاج ہے۔ آج ان گنت دواخانے موجود ہیں لہذا عین غین معالجہ ممکن ہے۔ اس میں ایسی گھبرانے یا پریشان ہونے والی کوئ بات ہی نہیں۔
معاملے کا یہ پہلو ذرا پیچیدہ اور گرہ خور ہے کہ آخر وچارے امریکیوں پر یہ دھونس کاری کیوں؟؟؟ پاکستانی سیاست دان اتنے لچڑ کیوں ہو گے ہیں؟!
پشاور یا اس سے پار کے مرد اس ضمن میں ضد کریں تو بات سمجھ میں آتی ہے۔ پاکستانی سیاست دانوں کا پشاوری ذوق عجیب لگتا ہے۔ اس علاقہ کے لوگ بھی سیاسی نشتوں میں ہوتے ہیں لیکن تعدادی حوالہ سے زیادہ نہیں ہیں۔ جمہوریت کو تعداد سے مطلب ہوتا ہے۔ مردانہ طاقت چاہے کسی بھی سطع کی ہو۔ عین ممکن ہے سیاسی ہیلو ہاءے میں وہ ڈومینٹ ہوں اور شاید اسی حوالہ سے مردوں کا زنانہ شوق مردانہ میں بدل گیا ہو۔
دینی اور سیاسی راہنماؤں کا کہنا ہے کہ نیٹو سپلائ انسانی نہیں‘ امریکی بنیادوں پر بحال ہوئ ہے۔ اس ضمن میں دو باتیں پیش نظر رہنی چاہیں:
ا۔ امریکہ انسانی حقوق کا ٹھکیدار ہے۔ اگر امریکہ کے حوالے سے بحال ہوئ ہے تو اسے انسانی بنیادوں پر لیا جانا چاہیے۔
ب۔ بیگمانہ حکم عدولی کل کلیان کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ یہ کل کلیان طلاق کا دروازہ کھول سکتی ہے جبکہ پاکستان سے تعلقات کے ضمن میں طلاق کا آپشن موجود ہی نہیں۔ جب آپشن ٹھپ ہے تو نیٹو سپلائ کا امریکی بنیادوں پر بحال ہونا غلط اور غیر ضروری نہیں۔
ایک طرف یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کے فضائ راستے سےنیٹو کو رسد کی سپلائ روز اول سے جاری ہے۔ ہم سخی لوگ ہیں اور سخیوں کے ڈیرے سے دوست دشمن بلا تخصیص فیض یاب ہوتے رہتے ہیں۔ دوسرا ہمارے ہاں کا اصول رہا کہ کہو کچھ کرو کچھ۔ جب کہا جاتا ہے کہ فلاں کام نہیں ہو گا تو سمجھ لو وہ کام ہو چکا ہے یا ہونے والا ہے۔ ہم کسی بھی سطع کی صفائ دے سکتے ہیں لیکن پرنالہ اپنی جگہ پر رکھتے ہیں۔ کسی کو بھوک سے مرتے دیکھنا کوئ صحت مند بات نہں۔ ہم اپنے لوگوں کو بھوک پیاس اور اندھیروں کی موت مار سکتے ہیں لیکن سفید رانوں والوں کو بھوکا مرتے نہیں دیکھ سکتے۔ یہ بھی کہ معاملہ سفید رانوں تک محدود نہیں ہماری محبوبہ کے پاس ابراہیم لنکن والے نوٹ بھی ہوتے ہیں۔ نوٹ دیکھتے ہی ہمارا موجی موڈ بن جاتا ہے۔ غیرت اصول اور کہا سنا اپنی جگہ‘ نوٹ اپنی جگہ۔
طلاق دینے کی کوئ تو وجہ ہو نی چاہیے۔ امریکہ سے تعلقات آخر کیوں ختم یا خراب کءے جاءیں۔ بچارے سیاسی لوگ پلے سے خرچہ کرکے ممبر بنتے ہیں۔ کیا عوام ان کی ضرورتوں کے مطابق کما کر دیتے ہیں‘ بالکل نہیں۔ امریکہ نوٹ وکھاتا اور چکھاتا ہے اس لیے موڈ کا نہ بننا احمقانہ سی بات ہے۔ یہ لوگ امریکہ کے کام الله واسطے نہیں کرتے۔ اگر پاکستانی عوام کو خود مختاری حاصل کرنے کا اتنا ہی شونق ہے تو امریکہ برابر نوٹ کماءیں وکھاءیں اور ان کی تلی ترائ کریں۔ اگر تلی ترائ نہیں کر سکتے تو چونچ بند رکھیں۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ طلاق دینے کی صورت میں ناصرف جہیز واپس کرنا پڑے گا بلکہ حق مہر بھی دینا پڑے گا۔ کون دے گا؟!
خودی بیچ کر امیری میں نام پیدا کر
ایک شخص چور کے پیچھے بھاگا جا رہا تھا۔ رستے میں قبرستان آ گیا۔ چور آگے نکل گیا جبکہ وہ شخص قبرستان میں داخل ہو گیا۔
کسی نے پوچھا “یہ کیا؟
اس نے جوابا کہا “اس نے آخر آنا تو یہاں پر ہے نا“۔
ایک اخباری اطلاع کے مطابق لاہور ہاءیکورٹ نےتوہین عدالت کے حوالہ سے اعلی شکشا منشی کالجز کے قابل ضمانت وارنٹ جاری کر دءے ہیں۔ یہ کاروائ ڈی ڈی سی (کالجز) ڈاکٹر اکرم کی رٹ کے حوالہ سے عمل میں آئ ہے۔ ڈی ڈی سی (کالجز) ڈاکٹر اکرم اپنی جیت کے نشہ سے سرشار ہوں گے۔ اعلی شکشا منشی کالجز کے قابل ضمانت وارنٹ جاری ہونا کوئ ایسی عام اور معمولی بات نہیں۔ عدالت نے وہی کیا جو کیا جانا چاہیے تھا۔ منصف قانون کے داءرے میں رہتا ہے اور قانون کی حدود کسی کو توڑنے نہیں دیتا۔ کالا گورا ماڑا تگڑا گریب امیر قانون کی نظروں میں برابر کی حیثیت رکھتے ہیں۔
عدالت نے جو کیا درست کیا اور درست کے سوا کچھ نہیں کیا۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ ڈی ڈی سی(کالجز) ڈاکٹر اکرم نے اعلی شکشا منشی کالجز ہاؤس کے مروجہ اصول و ضابط کی پھٹیاں اکھیڑنے کی جسارت تو نہیں کی؟
اگر اس نے ایسا کیا ہے تو اپنے انجام کو کیوں بھول گیا۔ کیا وہ یہ نہیں جانتا کہ آخر لوٹ کر آنا تو یہاں پر ہی ہے۔ کیا وہ نہیں جانتا تھا کہ اعلی شکشا منشی کالجز ہاؤس میں بڑے بڑے پھنے خانوں کی زندہ ہڈیاں بوٹیاں دفن ہیں۔ کوئ نشان تک نہیں تلاشا جا سکتا۔ اب صرف اور معاملہ ہے لیکن آتے وقتوں میں اس معاملے کے بطن سےان گنت معاملات جنم لیں گے۔
یہ بڑے کمال کا سچ ہے کہ اس عہد کی عدلیہ آتے کل کے لیے اعی درجے کا حوالہ چھوڑ جاءے گی۔ اس کا کردارمثال بنا رہے گا۔ عدالت کو کوئ اور کام نہیں جو ڈاکٹر اکرم کےمعاملات کو دیکھتی پھرے گی۔ کہاں تک بھاگیں گے۔ دوڑ دھوپ کرنے والوں کو پہاڑ کے نیچے آنا ہی پڑتا ہے۔ جو بھی مہا منشی ہاؤس سے ٹکرایا ہے‘ عبرت کی جیتی جاگتی تصویر بن گیا ہے۔ کوئ مائ کا لال پیدا نہیں ہوا جو ان کی پہلی رکات سے بچ کر نکل گیا ہو۔ یہ بھی کہ کسی ریسرچ اسکالر کو ہمت نہں ہو سکی کہ وہ یہاں بلڈوز ہونے والوں کا اتا پتا دریافت کرنے کی ہمت کر پایا ہو۔ یہ ہڈیوں بوٹیوں کا بلا کنار سمندر ہے۔ میں سب جانتے تجربہ رکھتے اور بلا مرہم زخمی‘ ڈاکٹر اکرم کی ہڈی بوٹی کی خیر کی دوا کےلیے دست بہ دعا ہوں۔ تصویری نمایش کے شوقین اس کمزوروں کے پرحسرت قبرستان کی جانب شوقین نظریں اٹھا کر تو دیکھیں‘ نانی نہ یاد آ گئ تو اس پرحسرت قبرستان کا نام بدل دیں۔
ہمارے ہاں تعلیم عام کرنےکی رانی توپ سے دعوے داغے جاتے ہیں لیکن عملی طور پر ناخواگی کے بیج بوءے جاتے ہیں۔ اعلی اور تحقیق سے متعلق تعلیم کی راہوں میں مونگے کی چٹانیں کھڑی کرنے کی ہر ممکنہ کوششیں کی جاتی ہیں۔ اس ضمن میں صرف ایک حوالہ درج کرنے کی جسارت کروں گا۔ ۔حساب شماریات وغیرہ این ٹی ایس میں شامل ہوتے ہیں۔ آرٹس والوں کا ان مضامین سے کیا کام ۔ اس ٹسٹ میں ان کے مضامین سے متعلق سوال داخل کءے جاءیں۔ یوں لگتا ہے یہ مضامین انھیں فیل کرنے یا ٹسٹ میں حصہ نہ لینے کی جرات پیدا کرنے کے لیے این ٹی ایس سی میں داخل کءے گءے ہیں۔
حساب اور شماریات کا تعلق چناؤ وغیرہ سے ہے۔ ان مضامین کا چناؤ ٹسٹ میں شامل کرنا بےمعنی اور لایعنی نہیں لگتا۔ ایک اخباری خبر کے مطابق چناؤ کے حوالہ سے بارہ کروڑ روپے سکہ راءج الوقت بھاؤ لگ گیا ہے۔ اگر یہ رقم کسی گریب آدمی کو دے دی جاءے تو وہ اتنی بڑی رقم دیکھ کر ہی پھر جاءے گا۔ اگر چیڑا اور پکا پیڈا نکلا تو گنتے گنتے عمر تمام کر دے گا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ گنتی کے دوران ہی کوئ ڈاکو لٹیرا اسے گنتی کی مشقت سے چھٹکارا دلا دے۔ حساب اور شماریات اگرچہ بڑے اہم اور کام کے مضامین ہیں لیکن ان کا متعلق پر اطلاق ہونا چاہیے۔ غیر متعلق پر اطلاق بڑا عجیب وغریب لگتا ہے۔
عجیب ہو یا نہ ہو' اس معاملے کا تعلق غربت سے ضرور ہے۔ جمہوریت امریکہ سے درامد ہوئ ہے۔ یہ مقامی‘ عربی یا اسلامی نہیں ہے۔ اس کا نعرہ ہے:
عوام کی حکومت‘ حکومت تو الله کی ہے۔
عوام کے ذریعے‘ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا الله' کدھر گیا۔
عوام کے لیے‘ وڈیرے کیا ہوءے۔ وہ حکومت کرنے کے لیے باقی رہ جاتے ہیں۔ گویا وہ سرکار ٹھرتے ہیں اور عوام رعایا۔
براءے نام سہی‘ رعایا عوام کا حوالہ موجود ہےاور یہ رعایا عوام کی تسکین کا بہترین موجو ہے۔ بارہ کروڑ بھاؤ نے تو براءے نام رعایا عوام کی اصل حیقیت کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ میری اس دلیل سے واضح ہو جاتا ہے کہ حساب اور شماریات جیسے مضامین ہر کسی کے لیے ہو ہی نہیں سکتے۔ ہاں البتہ مال خور منشی شاہی کے لیے بھی لازمی سے لگتے ہیں۔ ان کی سلیکشن کے حوالہ سے ان مضامین کی برکات کو نظرانداز کرنا‘ مال خور منشی شاہی کو ناقابل تلافی نقصان پہچانے کے مترادف ہے۔
اقبال ساری عمر خودی خودی کرتا رہا اور خودی میں ترقی بتاتا رہا۔ میں نے تو آج تک خوددار لوگوں کو ذلیل وخوار ہوتے دیکھا ہے۔ اپنی اور سماجی خودی بیچنے والے نام پیدا کرتے آءے ہیں ۔جمہوریت کے لفافے میں انھوں نے قومی آزادی عزت اور حمیت کا خون ملفوف کیا ہے۔ اس کارنامے کے صلہ میں پیٹ بھر کھایا ہے اور محلوں میں اقامت رکھی ہے۔ عہد حاضر میں خودی وکاؤ مال ہو گئ ہے۔ جو بھی رج کھاناچاہتا ہے اسے اقبال کے کہے پر مٹی ڈال کر اس کے مصرعے کو یوں پڑھنا اور اسی حوالہ سے زن
غیرت اور خشک آنتوں کا پرابلم
اصولی سی اور صدیوں کے تجربے پر محیط بات ہے کہ غیرت قوموں کو تاج پہناتی ہیں۔ بے غیرتی روڑا کوڑا بھی رہنے نہیں دیتی۔ روڑا کوڑا اس لیے معتبر ہے کہ تلاش کرنے والوں کو اس میں بھی رزق مل جاتا ہے۔ جب بھی معاملات گھر کی دہلیز سے باہر قدم رکھتے ہیں توقیر کا جنازہ نکل جاتا ہے۔ سارا کا سارا بھرم خاک میں مل کر خاک ہو جاتا ہے۔ جس کو کوئ حیثیت نہیں دی گئ ہوتی وہ بھی انگلی اٹھاتا ہے۔ نمبردار بن جاتا ہے۔ جس کے اپنے دامن میں سو چھید ہوتے ہیں اسے بھی باتیں بنانے کا ڈھنگ آ جاتا ہے۔ یہ قصور باتیں بنانے یا انگلی اٹھانے والوں کا نہیں ہوتا بلکہ موقع دینے والوں کا ہوتا ہے۔
یہ حقیقیت بھی روز روشن کی طرح واضح اور عیاں رہی ہے کہ طاقت کے سامنے اونچے شملے والے سر بھی خم رہے ہیں۔ گویا طاقت اور غیرت کا سنگم ہوتا ہے تو ہی بات بنتی ہے۔ کمزور صیح بھی غلط ٹھرایا جاتا ہے۔ اس کی ہر صفائ اور اعلی پاءے کی دلیل بھی اسے سچا قرار نہیں دیتی۔ بھڑیے کا بہانہ اسے چیرنے پھاڑنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ انسان جونکہ اشرف المخلوقات ہے اس لیے اس کے بہانے اور دلاءل بھی کمال کے ہوتے ہیں۔ انسان کی یہ بھی صفت ہے کہ وہ اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتا بلکہ اپنی غلطی اوروں کے سر پر رکھ دیتا ہے۔ ایسی صفائ سے رکھتا ہے کہ پورا زمانہ اسے تسلیم کرنے میں دیر نہیں کرتا۔
امریکہ کی عمارت گری اس میں کوئ کھوٹ نہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ عمارت گرانے پورا افغانستان امریکہ پر چڑھ دوڑا تھا۔ اس میں بچے بوڑھے عورتیں لاغر بیمار وغیرہ‘ بھی شامل تھے؟!
جواب یقینا نفی میں ہو گا۔ تو پھر ان سب کو بندوق نہیں توپ کے منہ پر کیوں رکھ دیا گیا؟
ان کا جرم تو بتایا جاءے۔
لوگوں کو تو مذکرات اور سفارتی حوالہ سے مساءل کا حل تلاشنے کے مشورے اور خود گولے سے مساءل حل کرنے کوشش کو کیا نام دیا جاءے۔
ایک پکی پیڈی بات ہے کہ چوہا بلی سے بلی کتے سے کتا بھڑیے سے بھیڑیا چیتے سے چیتا شیر سے شیر ہاتھی سے ہاتھی مرد سے مرد عورت سےاورعورت چوہے سے ڈرتی ہے۔ ڈر کی ابتدا اور انتہا چوہا ہی ہے۔ میرے پاس اپنے موقف کی دلیل میں میرا ذاتی تجربہ شامل ہے۔ میں چھت پر بیھٹا کوئ کام کر رہا تھا۔ نیچے پہلے دھواںدھار شور ہوا پھر مجھے پکارا گیا۔ میں پوری پھرتی سے نیچے بھاگ کر آیا۔ ماجرا پوچھا۔ بتایا گیا کہ صندوق میں چوہا گھس گیا ہے۔ بڑا تاؤ آیا لیکن کل کلیان سے ڈرتا‘ پی گیا۔ بس اتنا کہہ کر واپس چلا گیا کہ تم نے مجھے بلی یا کڑکی سمجھ کر طلب کیا ہے۔ تاہم میں نے دانستہ چوہا صندوق کے اندر ہی رہنے دیا۔
چوہا کمزور ہے لیکن ڈر کی علامت ہے۔ ڈر اپنی اصل میں انتہائ کمزور چیز ہے۔ کمزوری سے ڈرنا‘ زنانہ خصلت ہے۔ امریکہ اپنی اصل میں انتہائ کمزور ہے۔ کیا کمزوری نہیں ہے کہ اس کی گرفت میں بچے بوڑھے عورتیں لاغر بیمار بھی آ گءے۔ گھروں کے گھر برباد کر دینے کے بعد بھی اس کا چوہا ابھی زندہ ہے۔ چوہا اس سے مرے گا بھی نہیں۔ بشمار اسراءلی بچے مروا دینے کے بعد بھی فرعون کے من کا چوہا مرا نہیں حالنکہ وہ انہیں بانہ بازو بنا سکتا تھا۔
بلوچستان میں انسانی قتل و غارت کا مسلہ امریکی پارلیمان میں بطور قرار داد آ گیا ہے۔ ہمارا ذاتی معاملہ کسی دوسرے ملک کی پارلیان میں آنے کے تین معنی ہیں:
١۔ بلوچستان کی صورت حال بدترین ہو گئ ہے۔
٢۔ بلوچستان کی صورت حال ہماری دسترس میں نہیں رہی۔
٣۔ امریکہ‘ ایران اور چین پر گرفت کے لیے بھیڑیے کا بہانہ بنا کر فوجی کاروائ کا رستہ بنا رہا ہے۔
میری اس گزارش کو ڈینا روہر کے اس بیان کے تناظر میں دیکھیں گے تو معاملہ صاف ہو جاے گا:
امریکہ بلوچ عوام کے قاتلوں کو ہی امداد اور اسلحہ دے رہا۔
صدر آصف علی زرداری کے اس بیان کو بھی آتے کل کے حوالہ سے نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے:
ایران کے ساتھ ہیں۔ جارحیت پر امریکہ کو اڈے نہیں دیں گے۔
چوکیدار رات کو آوازہ بلند کرتا ہے کہ جاگدے رہنا میرے تے نہ رہنا۔
ہم اپنے ساتھ نہیں ہیں کسی اور کا خاک ساتھ دیں گے۔ یہ بڑی بڑی باتیں کرنے والے ایک جونیءر کلرک کی مار نہیں ہیں منشی تو بہت بڑا افسر ہوتا ہے۔ہمارا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو چور کو کہتے ہیں سوءے ہوءے ہیں اور گھر والوں کو کہتے ہیں چور آ رہا ہے۔اس نام نہاد ترقی کے دور میں ہم سچ کہہ نہیں سکتے سچ سن نہیں سکتے۔ یہ ہماری سیاسی سماجی یا پھر اقتصادی مجبوری ہے۔
ہمیں اپنے معاملات پر ہی گرفت نہیں کسی دوسرے کی کیا مدد کریں۔ صاف کہہ نہیں سکتے بھائ ہم پر نہ رہنا‘ جب بھی مشکل وقت پڑا ہمیں دشمن کی صف میں سینہ تانے کھڑا پاؤ گے۔ ہم ابراہیم لنکن کی نبوت اور ڈالر کے حسن پر یقین رکھنے والے لوگ ہیں۔ ہماری عقل اور غیرت پیٹ می بسیرا رکھتی ہے۔ ہم ازلوں سے بھوک کا شکار ہیں۔ اصل مجنوں کوئ اور ہے ہم تو چوری کھانے والے مجنوں ہیں۔ ہم کہتے کچھ ہیں کرتے کچھ ہیں۔ کہا گیا بجلی نہیں جاءے گی جبکہ بجلی گئ ہوئ ہے۔ گیس کا بل سو ڈیڑھ سو آتا تھا اور گیس سارا دن رہتی تھی۔ آج گیس صرف دکھائ دیتی ہے اور بل پیو کا پیو آتا ہے۔ بجلی جانے سے پہلے کچھ لوگ بیٹھے ہوءے تھے کہ فلاں گھر کے گیس کا بل سات ہزار روپیے آیا ہے اور گھر کے کل افراد چند ایک ہیں۔ لگتا ہے کہ دوزخ کو اس گھر سے پاءپ جاتا ہے۔
ہم وہ لوگ ہیں جو الیکشنوں کے موسم میں لنگر خانے کھول دیتے ہیں۔ کٹوں بکروں اور مرغوں کی شامت آ جاتی ہے۔ لوگ دھر سمجھ کر بے دریغ کھاتے ہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں امیدوار پلے سے کھلا رہا ہے اور اس کے بعد پیٹ بھر کر اگلے الیکشنوں میں ہی مل پاءے۔ بات کا پہلا حصہ درست نہیں۔ الیکشن وہی لڑتا ہے جس کی ہک میں زور ہوتا ہے۔ جس کی ہک میں زور ہوتا ہے وہ پلے سے کیوں کھلانے لگا ۔ چوری کے ڈنگر ہی چھری تلے آتے ہیں۔ اتنا ضرور ہے کہ ان لنگر خانوں میں مردار گوشت دیگ نہیں چڑھتا۔
مردار گوشت دیگ چڑ ھنے کی ایک مثال پچھلے دنوں سننے میں آئ۔ محکمہ ایجوکیشن کے ایک نءے آنے والے ضلعی افسر نے اپنے درجہ چہارم کے ملازم سے کہا بھءی ہمارے آنے کی خوشی میں دعوت وغیرہ کرو۔ اس نے مردہ مرغے دیگ چڑھا دءے۔ دونوں اپنی اپنی جگہ پر سچے تھے۔ افسر کے آنے کی خوشی میں دعوت تو ہونی چاہیے۔ درجہ چہارم کا ملازم دیگ کیسے چڑھا سکتا ہے۔ دونوں سرخرو ہوءے۔ دیگ چڑھی افسر کی خوشی پوری ہو گئ ملازم کا خرچہ لون مرچ مصالحے پر اٹھا۔ وہ اتنا ہی کر سکتا تھا۔
ممبری کے امیدواروں کا بھی غالبا خرچہ لون مرچ مصالحے پر ہی اٹھتا ہے۔ اب تو اس کی بھی شاید نوبت نہیں آءے گی کیونکہ لون مرچ مصالحے کا خرچہ ادھر ہی بارہ کروڑ ادا کر دیا جاءے گا۔
ایران کے حوالہ سے روس کا بیان حوصلہ بخش لگتا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کو ایران پر حملے کی صورت میں بھرپور جواب ملے گا۔ اس بیان کے اندر چند چیزیں پوشیدہ ہیں:
١۔ جو مرنا جانتے ہیں‘ مارنے میں بھی کم نہیں ہوتے۔ امریکہ نے یہ غلطی کی تو لاشیں اٹھانے میں شاید اسے صدیاں لگ جاءیں۔
٢۔ ایران کا ساتھ دیا جاءے گا۔
٣۔ غیرت مند‘ مرد ہوتا ہے اور چوہا اس کی دسترس سےکبھی باہر نہیں ہو پاتا۔
ترکی کا کہنا ہے کہ تباہ کن نتاءج ہوں گے۔ جنگ ہے ہی تباہی و بربادی کا نام۔ بلوچ غیرت مند قوم ہے۔ بلوچ جانتے ہیں کہ امریکہ ان کے قاتلوں کو امداد اور اسلحہ فراہم کر رہا ہے۔ افغانی اپنی تباہی کے ذمہ دار سے آگاہ ہیں۔ پاکستان کو وافر چوری فراہم کرنے کے باوجود لوگوں کے دل میں امریکہ کے لیے نفرت اور صرف نفرت ہے۔ چوری عوام کے پیٹ میں نہیں گئ۔ ان کے پیٹ میں خوشکی کا ڈیرہ ہے۔ خشک آنتیں غصے اور خفگی کا سبب رہتی ہیں۔ خشک آنتوں کا حاصل تباہی اور بربادی کےسوا کچھ نہیں ہوتا ہوتا ہے۔
جرم کو قانونی حیثیت دینا ناانصافی نہیں
\
پشاور ہائ کورٹ کا یہ کہنا کہ اگر ہم سچ بولنے لگیں تو ہمارے اسی فیصد مساءل حل ہو جاہیں گے‘ پشاور ہائ کورٹ کے یہ الفاظ آب زم زم سے لکھے جانے کے قابل ہے۔ سچ سے بڑی کوئ حقیقت نہیں اور ناہی اس سے بڑھ کر کوئ طاقت ہے۔ سچ ظلم زیادتی ناانصافی بلکہ ہر خرابی کی راہ میں مونگے کی چٹان ہے۔ یہ کمزور کو کمزور نہیں رہنے دیتا۔ یہ بات ہر شخص جانتا ہے‘ اس کے باوجود ہر شخص اس سے دور بھاگتا ہے۔ شاید ہی کوئ ہو گا جو اس کی برکات کا قاءل نہ ہو گا یا اس کی طاقت سے انکار کرتا ہو گا بلکہ اپنے سوا دوسروں کو درس نہ دیتا ہو گا۔ سچ کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کھ اسے لاکھ پردوں میں رکھو‘ سامنے آنے سے باز نہیں رہتا۔ اس طرح بنا بنایا کھیل بگاڑ کر رکھ دیتا ہے۔
سچ یقینا پیار کرنے کے لاءق چیز ہے۔ لوگ اس سے بےحد پیار کرتے ہیں۔ اسے بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور سچ سننا انھیں خوش آتا ہے۔ جو بھی ان کے سامنے جھوٹ اور غلط بیانی سے کام لیتا ہے اسے کڑی سے کڑی سزا دینے پر اتر آتے ہیں۔ جھوٹ اور غلط بیانی سے کام لینے والا بچ کر جاءے گا کہاں۔ ان کی نگاہ بال کی کھال اتار لیتی ہے۔ وہ اس کو محدود نہیں رکھتے تاہم اقتصادیات سے جڑا جھوٹ انھیں موت کے گھاٹ اتار دینے کے مترادف ہوتا ہے۔ کسی اور کا دینا ایک روپیے کا ہو یا لاکھ روپیے کا‘ ان کےلیے اس میں ایک اکنی کی ہیر پھیر بھی لاکھ کی حیثیت رکھتی ہے۔
دینے کا معاملہ اس پیمانے سے قطعی برعکس ہوتا ہے۔ اس ضمن میں سچ انھیں زہر لگتا ہے۔ ان کے سماجی معاملات بھی سچ کے پکے دشمن ہوتے ہیں۔ سماجی معاملہ ہو یا اقتصادی‘ جھوٹ اور منافقت کی جےء جےء کار رہتی ہے۔ منافقت‘ جھوٹ کی ترقی یافتہ شکل ہے۔ امیدوار ممبر جب کسی کے پاس آتا ہے تو منہ پر جھوٹ بولتا ہے کہ میں شروع سے آپ کا خدمت گار رہا ہوں ۔ جب کہ عید کے روز بھی اس سے مسجد میں ملاقات نہیں ہوئ ہوتی۔ اگلی صفوں میں بیٹھنے والوں کی نگاہ میں پیچھے بیٹھے لوگ روڑا کوڑا ہوتے ہیں۔ پرانے اور بوسیدہ لباس والے دکھائ کب دیتے ہیں۔ یہ فطری سی بات ہے کہ آسمان اور زمین کا ملن ممکن ہی نہیں۔ یہ اس لیے کہا ہے کہ الیکشن امراء کا کھیل ہو کر رہ گیا ہے۔ گریب تو موری ممبری کا الیکشن تک نہیں لڑ سکتا۔ ہاں گریب رات کو امیدوار ممبر کے ڈیرے سے پیٹ پوجا کے لالچ میں لوگوں سےلڑ جھگڑ سکتا ہے۔
امیدوارممبر جس طرح اپنے خادم ہونے کا جھوٹ بولتا ہے ووٹر بھی نہلے پر دہلا مارتا ہے۔ وہ جوابا کہتا ہے کہ جناب ہمیشہ آپ کا ساتھ دتیے آءے ہیں اب بھلا آپ کو کس طر ح چھوڑیں گے حالانکہ اس نے کبھی بھی اس کا ساتھ نہیں دیا ہوتا۔ عملی طور پر اس کا سخت مخالف رہا ہوتا ہے یا جھڑنے والے کے ڈبے میں اس کے ووٹ نے بسیرا کیا ہوتا ہے۔
کوتوالی کی بات چھوڑیں وہاں تو بڑے بڑےعین غین اور شریف باٹی ٹیک جاتے ہیں۔ وہ وہاں‘ وہ وہ جرم تسلیم کر لیتے ہیں جن کے کرنے کی خواب میں بھی نہیں سوچ سکتے۔ میں یہاں عدالت کے حوالہ سے بات کرنے جا رہا ہوں۔ عدالت میں چور کو بھی وکیل کرنے کا پورا پورا حق ہے۔ یہ اس کا اصولی حق ہوتا ہے۔ چور کا وکیل وہ وہ دلاءل پیش کرتا ہے کہ چور کو یقین ہونے لگتا ہے کہ وہ چور نہیں ہے۔ اس نے چوری کی ہی نہیں بلکہ اس پر چوری کا جھوٹا الزام لگایا جا رہا ہے جب کہ وکیل کو پورا پورا یقین ہوتا ہے کہ چوری اس کے موکل نے کی ہے۔ اس کے باوجود وہ چور کا مقدمہ لڑتا ہے اور اسےبچانے کی سر توڑ کوشش کرتا ہے۔ یہ اس کا پیشہ ہے۔ کامیابی کی صورت میں وہ اچھا وکیل قرار پاتا ہے۔ ہارنے کی صورت میں کوئ چور اس کے قریب سے بھی گزرنے کی حماقت نہیں کرتا۔ اگر کوئ چور اس کے پاس نہیں آءے گا تو وہ بھوکا مر جاءے گا۔ گویا علم اور داؤوپیچ رکھنے والا پیٹ سے سوچے گا تو سچ بولنے کی بھلا ایک عام آدمی کس طرح حماقت کرے گا۔ پیٹ ہی جھوٹی گواہی دینے پر مجبور کرتا ہے۔
پیٹ ہی سب سے بڑا سچ ٹھرتا ہے۔ کسی کا حق ڈوب رہا ہے‘ اس جانب نظر کیسے جا سکتی ہے۔ مضروب اپنے جوگا نہیں ہوتا وہ ہرے نیلے نوٹ کس طرح وکھا سکتا ہے۔ سچا ہو کر بھی وہ جھوٹوں کی صف میں کھڑا ہوتا ہے۔
ہمارے تمام مساءل کا حل یقینا سچ بولنے میں ہے لیکن خالی پیٹ درویش لوگ ہی سچ بول سکتے ہیں۔ یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ سچ بولنے والےجان سے گءے ہیں۔ پیٹ کے غلام روز اؤل سےعزت بچانے کے لیے سارا دن بےعزتی کرواتے ہیں۔ پیٹ یقینا تکنیکی اور شکمی مجبوری ہے۔ پیٹ کو کسی بھی سطع پر خانہ نمبر دو میں نہیں رکھا جا سکتا۔ روٹی کپڑا اور مکان یا پاکستان کو جنت نظیر بنا دینے کے وعدے تو ہوتے رہے ہیں۔ جنت نظیر بنانا تو بہت دور کی بات ہے پاکستان کو پاکستان تک نہیں بنایا جا سکا۔
پاکستان میں بجلی روٹی کا پہلا اور آخری ذریعہ ہو کر رہ گئ ہے۔ وزیر برقیات نے بند نہ ہونے کا وعدہ کیا لیکن لوڈ شیڈنگ کے معمولات میں رائ بھر فرق نہیں آیا۔ مزدور گھر سے تو مزدوری پر آ گیا ہوتا ہے لیکن بجلی نہ ہونے کے کارن فارغ بیٹھا ہوتا ہے۔ ماں دروازے پر آنکھیں رکھ کر بیٹھی ہوتی ہے کہ بیٹا آءے گا۔ مزدوری لاءے گا تو ہی اس کی دوا آ سکے گی۔ بیوی کو چولہا گرم کرنے کی فکر ہوتی۔ چھوٹا بچہ دودھ آنے کی امید لگا کر بیٹھا ہوتا ہے لیکن بیٹا باپ خاوند خالی ھاتھ واپس آ جاتا۔ ان میں سے کسی کا قصور نہیں ہوتا۔ سب اپنی اپنی جگہ پر حق بجانب ہوتے ہیں۔
لیکن لوڈ شیڈنگ کے معمولات میں رائ بھر فرق نہیں آیا۔ مزدور گھر سے تو مزدوری پر آ گیا ہوتا ہے لیکن بجلی نہ ہونے کے کارن فارغ بیٹھا ہوتا ہے۔ ماں دروازے پر آنکھیں رکھ کر بیٹھی ہوتی ہے کہ بیٹا آءے گا۔ مزدوری لاءے گا تو ہی اس کی دوا آ سکے گی۔ بیوی کو چولہا گرم کرنے کی فکر ہوتی۔ چھوٹا بچہ دودھ آنے کی امید لگا کر بیٹھا ہوتا ہے لیکن بیٹا باپ خاوند خالی ھاتھ واپس آ جاتا۔ ان میں سے کسی کا قصور نہیں ہوتا۔ سب اپنی اپنی جگہ پر حق بجانب ہوتے ہیں۔
وکیل اپنی جگہ پر ٹھیک ہے کہ چور کی وکالت نہیں کرے گا تو کھاءے گا کہاں سے۔ بابو اپنی جگہ پر سچا ہے کہ حق ناحق کا عوضانہ نہیں وصولے گا تو مرغ اور مچھلی کا سامان کیسے اور کیوں کر ہو سکے گا۔ جب وعدے پورے نہیں ہونے‘ مظلوم کو ظالم ٹھرایا جانا ہے‘ انصاف دوہرا ہونا یا کروانا ہے‘ چور کو بری کروانا ہے تو جھوٹ کو قانونی حیثیت دے دی جاءے‘ کم از کم منافقت سے تو خلاصی مل جاءے گی۔ اصلی آدمی دیکھنے کو مل جاءے گا۔ آج اصلی آدمی کو دیکنھے کو آنکھیں ترس گئ ہیں۔ جنی کوئ غلط اقدام نہیں ہو گا۔ جس کو بےوسیلہ اوربے بابائ ہونے کی وجہ سے قتل کیتا کرایا مل جانا مل جانا ہے‘اس کی داد رسی لایعنی اور ہر طرح کی معنویت سے باہر کی چیز ہے۔ ایسے حالات میں جرم کو قانونی حیثیت دینا ناانصافی نہیں‘ انسانی مساوات قاءم کرنے کے کے مترادف ہے۔۔ اگر بعض کو جرم کی سزا سے بالاتر قرار دینے کی سعی کرنا ہے تو اوروں کو یہ حق دینا کس اصول کے تحت غلط ہے؟!
بلوچستان موجودہ حالات اور امریکی قرارداد
ایک شخص اپنے کھیت کی وٹ پر بیٹھا زاروقطار رو رہا تھا۔ کسی نے از رہ ہمدردی پوچھا:
بھائ کیوں رو رہے ہو؟
اس نے جواب میں کہا: میرے کھیت کی وٹ پر سے سا نپ گزر گیا ہے۔
اس میں رونے والی کون سی بات ہے۔ سانپ ابھی تک بیٹھا ہوا تو تہیں ہے۔ گزر گیا‘ سو گزر گیا۔ لکیر پیٹنے کا کوئ جواز نظر نہیں آتا۔
اس نے دوبارہ جواب میں کہا: رستہ تو بن گیا ہے۔
پوچھنے والے نے زور دار قہقہ لگایا اور آگے بزھ گیا نا۔
پوچھنے والے کا قہقہ بظاہر غلط معلوم نہیں ہوتا۔ بات ہوئ‘ ختم بھی ہو گئ۔ رات گئ بات گئ۔ اب اس کے حوالہ سے کسی قسم ردعمل لایعنی سا لگتا ہے۔ اگر غور کیا جاءے تو گزرے پر تاسف‘ فکرمندی یا احتیاط نہ کی جاءے گی تو آتے کل کو یہی انداز اور رویہ رواج پا جاءے گا۔ آج ایک گزرا کل دو پرسوں چار اور اس کے بعد تعداد کا شمار کرنا بھی امکان میں نہ رہے گا اور یہ صورتحال کسی بہت بڑے حادثے کا موجب بن سکتی ہے۔ کچھ بھی نہ ہو‘ ڈر اور خوف کے ساءے تو سر پر منڈلاتے رہیں گے۔ ڈر اور خوف کی حالت میں آدمی کچھ نہیں کر پاتا اگر کرتا ہے تو بار بار غلط کرتا ہے۔ آدمی کے پاس اتنی زندگی نہیں جو متواتر غلطیاں ہی کرتا چلا جاءے۔ آدمی کے لیے ایک وارنگ ہی کافی ہوتی ہے۔ اگرچہ ابتدا ہی سے انتہائ سمجھ بوجھ اور احتیاط کام لینا چاہیے۔ ہو سکتا ہے دوسرا موقع میسر نہ آءے لہذا پہلا موقع کس حساب میں ہاتھ سے نکالا جاءے۔
امریکی کانگرس میں بلوچستان کے حوالہ سے رائ کے دانے کے برابر بات ہوئ ہو تو بھی معاملے کو نظرانداز کرنے کا مطلب یہ گا کہ ہم اپنے معاملات کے بارے میں غیر سنجیدہ‘ غفلت شعار اور لاپرواہ ہیں۔ آتے کل کو رائ پہاڑ بھی بن سکتی ہے۔ ہم رائ کے سامنے اگر ڈھیر ہو جاتے ہیں تو پہاڑ کا مقابلہ ہمارے باپ دادا قبروں سے نکل کر کریں گے۔ حال ماضی سے جڑا سہی لیکن ہر عہد کو اپنا معاملہ خود ہی کرنا اور بھگتنا ہوتا ہے‘ ہاں اس کے اثرات آتے کل پر بھی اثرانداز ہوتے ہیں۔
امریکی قرارداد کے حوالہ سے میڈیا گفتگو کر رہا ہے۔ اس حوالہ سے کام کیا ہو رہا ہے اس کا کہیں آتا پتہ نہیں۔
فردوس اعوان کا کہنا ہے: پاکستان کی سلامتی پر خطرات منڈلا رہے ہیں۔
شیری رحمن کا کہنا ہے قرارداد پر امریکہ کو سخت ردعمل سے اگاہ کر دیا گیا ہے۔
جب جان پر بن آءے تو جان بچانے کے لیے کچھ بھی کیا جا سکتا ہے۔
کیا ردعمل سامنے آیا ہے؟
ان کی رسد روک لی گئ ہے؟
تعاون سے ہاتھ کھنچ لیا گیا ہے؟
تعاون مشروط کر دیا گیا ہے؟
شدت پسندوں کو میز پر بلا کر گفتگو کی گئ ہے؟
ان کے موجود لوگ نظربند کر دءے گءے ہیں؟
ان کے فوجیوں کو پکڑ لیا گیا ہے؟
کوئ علاقائ گٹھ جوڑ کر لیا گیا ہے؟
کوئ کراری اور پر تشویش دھمکی داغی گئ ہے؟
اس ذیل میں کوئ حکمت عملی بنا لی گئ ہے؟
قوم کو آگاہ کرکے اعتماد میں لیا گیا ہے؟
ناگوار حالات پیش آ جانے کی صورت کے لیے تیاریاں کر لی گئ ہیں؟
قوم تو ساری صورت حل بےخبر ہے۔ کوئ نہیں جانتا کہ ملک میں ہو کیا رہا ہے۔ لوگ زیادہ تر یہ جانتے ہیں کہ انتخاب کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ اس حوالہ سے ووٹ کی حصولی کے لیے حیلے حربے تلاشے اور تراشے جا رہے ہیں۔ ضروری کاروائ کے بغیر سوئ گیس کے پروانے جاری ہو رہے ہیں۔ جب وقت نکل جاءے گا لوگوں کے ہاتھ ہمیشہ کی طرح خالی ہوں گے۔
ووٹ کی طاقت سے انقلاب مصطفی برپا کرنے کی باتیں بھی ہو رہی ہیں۔
عوام ہیں کیا؟
عوام کی حیثیت کیا ہے؟
عوام سیاسی حوالہ سے کس مقام پر کھٹرے ہیں؟
فیصلوں یا دیگر قومی امور میں ان کا عمل دخل کیا ہے؟
عوام میں سے کوئ ایک بھی ایوانوں میں موجود ہے؟
عملی طور دیکھنے میں یہی آیا ہے کہ جن سے ووٹ حاصل کرنا ہوتے ہیں ان سے ہاتھ نہیں ملایا جاتا مبادہ ہاتھوں کو جراثیم لگ جاءیں گے۔
اقتدار پر درآمدہ‘ نیم پاکستانی‘ پیسے والے یا پھر وڈیرے قابض رہے ہیں۔ عوام تو اقتدار حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہیں۔ ان کے ذریعے یا ان کا نام لے کر ووٹ حاصل کءے جاتے ہیں۔ امور میں وہ استعمال شدہ ٹیشو پیپر کی بھی حیثیت نہیں رکھتے۔ بات کریں گے جوتے کھاءیں گے۔
یہاں تک سننے میں آ رہا ہے کہ سقوط بلوچستان کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ وقت گزرنے کے بعد کوئ کیا کر لے گا۔ مشرقی پکستان گیا ۔ کیوں گیا؛ کون ذمہ دار تھا‘ ایک عام آدمی نہیں جانتا۔ ایوانوں میں روٹی ٹکر کھانے کے سوا بھی کچھ ہو رہا ہے‘ کوئ نہیں جانتا۔
اتفاق سے باندر جنگل کا بادشاہ منتخب کر لیا گیا۔ ایک روز ایک بھیڑ شکایت لے کر آئ کہ بھیڑیے نے اس کا بچہ کھا جانے کی دھمکی دی ہے۔ باندر نے تین چار درختوں پر چھلانگیں لگاءیں اور بھیڑ سے کہا تم جاؤ میں کوشش کر رہا ہوں۔ اگلے دن بھیڑ نے آ کر بتایا بھیڑیا میرا آدھا بچہ کھا گیا ہے۔ ہاءیں بات یہاں تک پہنچ گئ ہے۔ اس نے بارہ تیرہ درخت پھلانگے اور کہا‘ جاؤ اب کچھ نہیں ہو گا۔ اگلے دن بھیڑ نے اطلاع دی کہ بھیڑیا بقیہ بھی چٹ کر گیا ہے۔ اس پر بندر بولا دیکھو میں نے تمہارے سامنے کتنی کوشش کی ہے۔ میں تو کوشش کر سکتا تھا۔ اگر کوشش میں کوتاہی ہوئ ہے تو کہو۔
سقوط ڈھاکھ کے حوالہ سے کتنے لوگ الٹا لٹکاءے گءے؟
سقوط ڈھاکھ کے حوالہ سے کیا کاروائ عمل میں لائ گئ‘ کوئ بتا سکتا ہے؟
بندر پاٹوسیوں سے بھلا کیا ہوتا ہے؟
سقوط بلوچستان کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ اس بیان کو دوبارہ پڑھیں کیا اس قسم کا بیان پڑھ کر رات کو نیند آ سکتی ہے؟
ذمہ داران رات کو سوءے ہیں اور وہ آج رات کو بھی۔سوءیں گے۔
وہ جاگتے میں سوتے بھی سوتے ہیں۔ جاگنے والے سے وقت محتاط رہتا ہے اور اس کی طرف آنکھ اٹھانے کی حماقت نہیں کرتا۔
قاءم مقام امریکی سفیر کا کہنا ہے: پاکستان کی خود مختاری کا احترام کرتے ہیں۔ بلوچستان سے متعلق قرارداد کا اوباما حکومت سے کوئ تعلق نہیں۔
منور حسن کا کہنا ہے: بلوچستان میں امریکہ اور بھارت‘ مشرقی پاکستان والا کھیل کھیلنا چاہتے ہیں۔
الطاف حسین کا کہنا ہے: حکمرانوں کی غلط پالیسیوں نے بلوچستان کو علیدگی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔
سنی اتحاد کونسل کا کہنا ہے: امریکہ بلوچستان کی علیدگی کے لیے اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے۔ نیٹو سپلائ کی بحالی غداری ہے۔
محمد نواز رضا وقاءع نگار خصوصی کے مطابق: بلوچستان پر قرارداد علیدگی پسندوں کی اخلاقی حمایت سمجھی جا رہی ہے۔
نظرہء پاکستان بورڑ آف گورنرز کے مطابق: بلوچستان پر قرارداد‘ پاکستان کے ٹکڑے کرنے کی مذموم سازش ہے۔
بی بی سی ڈاٹ کام کے مطابق: بلوچستان کے معاملات پر پارلیمنٹ‘ تشویش کی قرارداد منظور کر لیتی تو امریکی ڈرامہ نہ ہوتا۔
شاہین بکٹی کا موقف ہے: وفاقی حکومت بلوچستان کے مساءل حل کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے۔
طلال بکٹی کا کہنا ہے:عدلیہ نے بلوچوں کو مارنے اورغاءب کرنے والوں کو نہ پکڑا توملک ٹوٹ جاءے گا۔
تحریک انصاف کا موقف ہے: بلوچستان کی آزادی کی آواز دیار غیر میں ابھرنا حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔
حافظ عبدالغفور حیدری کہتے ہیں: اس سے پہلے کہ امریکہ ملک کو دو لخت کرنے کی سازش میں کامیاب ہو‘ حکمران ہوش کے ناخن لیں۔
حافظ محمد سعید کہتے ہیں: بھارتی و امریکی سازش کءے جانے تک ملک دشمن سازشوں کا خاتمہ مکن نہیں ہے۔
حریت کانفرس کا موقف ہے: امریکی قرارداد‘ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے۔
دفاع پاکستان کونسل کے نزدیک: بلوچوں کے ساتھ ناانصافی امریکی ایجنڈے کی تکمیل ہے۔
سردار اختر مینگل کے نزدیک: نوکریاں بچانے والے امریکی قرارداد کی مخالفت کر رہے ہیں۔
فاضل بزنجو کا موقف ہے: آرمی چیف مسلہ حل کرے۔
جنرل ڈیمپسنی کا کہنا ہے: ایران پرکوئ حملہ دانشمندی نہ ہو گی۔
ان تمام بیانات کے مطالعہ سے پانچ باتیں واضع ہو جاتی ہیں:
١۔ بلوچستان کا مسلہ خوفناک صورت اختیار کر گیا ہے‘ فوری سنجیدہ توجہ اور ہنگامی ایکشن کا متقاضی ہے۔
٢۔ اس مسلہ کے حوالہ سے کوئ مثبت سنجیدہ اور ہنگامی ایکشن ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ ہاں‘ کرسی بچاؤ مہم زوروں پر ہے۔
٣۔ ہر کوئ دوسرے سے امید لگاءے بیٹھا ہے اور مسلے کے حل کا ذمہ دار سمجھ رہا ہے۔
٤۔ امریکہ سجن نہیں‘ مطلب پرست ہے اور یہ سب اسی کے اشاروں پر ہو رہا ہے۔
٥۔ امریکہ کا بلوچستان کے حوالہ سے مسلہ کوئ اور ہے اور وہ ہے ایران۔ وہ ایک تیر سے دو نشانے کرنا چاہتا ہے۔
آخر بلوچوں کے دل میں یہ نفرت کیوں ہے؟
اس سوال کا جواب ہر بااختیار شخص جانتا ہے۔ جاننے کے باوجود خاموش کیوں ہے؟
اس سوال کا جواب کوئ سلیمانی ٹوپی پہنے ہوءے نہیں ہے۔ یہ دونوں سوال اس وقت تک سوال ہی رہیں گے جب تک جینے کے لیے روٹی نہیں کھائ جاتی۔ سردست ان کی حکمت عملی یہی ہے وقت گزارو جو ہاتھ لگتا ہے جلدی سے سمیٹو۔ الله ناکرے‘ ناگوار حالات میں بستر بغل میں دبا کر کھسک جانا‘ ان کی روایت رہی ہے۔۔ امریکہ بھی خوش وہ بھی خوش۔ عوام جانیں اور ان کی جنم بھومی جانے۔ آتا وقت زخموں پر مرہم رکھتے رکھتے گزر جاءے گا۔ عوام جو کیڑے مکوڑے ہیں‘ ان کا کیا کر لیں گے۔
پاکستان یوں ہی نہیں بن گیا۔ اس کی جڑوں میں آج بھی خون رواں دواں ہے۔ بڑی قربانیں دی گئ ہیں۔ مفاد پرست وڈیروں اور لٹیرا عناصر کا کچھ خرچ نہیں آیا اور نہ خرابی کی صورت میں کوئ دام اٹھے گا۔ پاکستا ن‘ بلوچ عوام‘ ایران‘ اور حالات پر نظر کرتے ہوءے کچھ کرنا ہو گا۔ آج بہت کم قیمت ادا کرنا پڑے گی لیکن آتے وقتوں میں آج کی نیند کے جواب میں سال ہا سال تک خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ ان گھی شکرخور لیڈروں پر انحصار کءے رکھنا کھلی موت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کھلی موت۔
یہ بھی یاد رکھنے کی بات ہے کہ غنڈہ اس وقت تک غنڈہ ہوتا ہے جب تک اس کی شوکر سے خوف طاری رہے گا۔ ہمارے پاس تجربہ موجود ہے کہ کتے کے آگے بھاگتے رہو‘ خلاصی نہیں کرے گا۔ کھڑے ہو جاؤ کچھ نہیں کہے گا۔ اینٹ اٹھانے کے لیے نیچے جھکو گے تو بھاگ اٹھے گا۔ کتا کتنا سدھارن ہو اس کی فطرت اس اصول سے برعکس نہیں ہوتی ہاں البتہ پاگل کتے کی صورت مختف ہوتی ہے۔ اس کا علاج گولی اور صرف گولی ہوتا ہے۔
لوٹے کی سماجی اور ریاستی ضرورت
لوٹا کوئ عہد جدید کی پیداوار نہیں۔ یہ صدیوں پہلے وجود میں آ کیا تھا اور اس نے اپنی بہترین کارگزاری کے حوالہ سے انسانی زندگی میں بلند مقام حاصل کر لیا۔ اس کے وجود سے انسان خصوصا برصغیر کے بااختیار اور صاحب حیثیت لوگوں نے خوب خوب فاءدہ اٹھایا۔ دیکھا جاءے یہ کمزور اور گریب طبقے کی چیز ہی نہیں۔ پکے محل رکھنے والے اس کی کارگزاری کے معترف رہے ہیں۔ کمزور اور گریب طبقے سے متعلق لوگ کچے اور تعفن کے مارے گھروں میں رہتے ہیں اس لیے ان کی گزر اوقات گھیسی سے ہو جاتی ہے۔ اس حیقیت کے پیش نظر لوٹے کو بلند پایہ طبقوں کی امانت سمجھنا چاہیے۔ موجودہ بتی کے بحرانی دور میں بھی بڑے لوگوں کو گھیسی نہیں کرنا پڑے گی۔ یہ سعادت صرف اور صرف کمزور اور گریب طبقے کے مقدر کا حصہ رہے گی۔
"لوٹا" کو آفتابہ بھی کہا جاتا رہا ہے لوٹے کو استاوا بھی کہتے ہیں اور یہ لفظ دیہاتوں میں آج بھی مستعمل ہے۔ تاہم شہروں میں مستعمل اور معروف لفظ لوٹا ہی ہے۔ یہ ایک قسم کا ٹونٹی والا برتن ہوتا ہے جو پاخانہ وغیرہ کے لیے پانی سے طہارت کرنے والا برتن ہوتا ہے۔ مغرب والے اس برتن اور اس کی افادیت سے آگاہ نہیں ہیں کیونکہ وہ طہارت کا کام ٹیشو پیپر سے چلاتے ہیں۔ ویسے ٹیشو پیپر کا استعمال کھانا کھانے کے بعد ہاتھ صاف کرنے کے لیے بھی ہوتا ہے۔ اصطلاحا ٹیشو پیپر کے معنی اس سے مختلف ہیں۔ کام نکل جانے کے بعد آنکھیں بدل لینا کے لیے یہ مرکب استعمال کیا جاتا ہے۔ استعمال شدہ ٹیشو پیپر معنویت کھو دیتا ہے۔ انسان کے لیے اس مرکب کا استعمال کرنا مناسب نہیں لگتا کیونکہ انسان کی دوبارہ سے ضرورت پڑ سکتی ہے جبکہ ٹیشو پیپر دوبارہ سے استعمال میں نہیں لایا جا سکتا۔ دوبارہ سے ضرورت یا حاجت کے لیے نیا ٹیشو پیپر استعمال کرنا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس انسان دوبارہ سے کیا' بار بار استعمال میں لایا جا سکتا ہے . ٹیشو پیپر کا ہاتھ اور پیٹھ کی صفائ کے علاوہ کوئ قابل ذکراستعمال موجود نہیں۔
مساجد میں مٹی کے لوٹے استعمال ہوا کرتے تھے آج بھی زیادہ تر مٹی کے لوٹے معتبر سمجھے جاتے ہیں۔ کہیں کہیں پلاسٹک کے لوٹے بھی دیکھنے کو مل جاتے ہیں۔ جماعت والے جب چلے پر جاتے ہیں پلاسٹک کے لوٹوں کو ترجیع دیتے ہیں کیونکہ ان کے ٹوٹنے کا ڈر نہیں ہوتا۔ سفر میں لوٹا ٹوٹنا یا بہہ جانا نہوست ہی نہیں مکروہات میں بھی ہے۔ لوٹے کی سلامتی میں ہی کامیابی پوشیدہ ہوتی ہے۔ طہارت کا سارا دارومدار لوٹے پر ہوتا ہے۔ لوٹا برقرار ہے تو طہارت برقرار ہے۔ طہارت برقرار ہے تو ہی عبادت ممکن ہے۔
شہر کے گھروں میں کانسی سلور سٹیل چاندی پلاسٹک وغیرہ دھاتوں کے لوٹے دیکھنے کو مل جاتے ہیں۔ ایوا نوں میں پلاسٹک کے لوٹے استعمال ہوا کرتے تھے غالبا آج بھی پلاسٹک کے لوٹے استعمال ہوتے ہیں۔ فیشنی دور ہے ٹیشو پیپر بھی بڑی افادیت رکھتے ہیں۔ ٹیشو پیپر کو لوٹے کا مترادف سمجھا جاتا ہے۔ حقیت یہ ہے کہ ۔ ٹیشو پیپر لوٹے کا متبادل ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ اس میں پانی کا عمل دخل نہیں ہوتا دوسرا ٹیشو پیپر ایک سے زیادہ بار استعمال نہیں ہو سکتا۔ گویا گھیسیی اور ٹیشو پیپر برابر کا مرتبہ رکھتے ہیں۔ گھیسیی طہارت کے حوالہ سے زیادہ معتبر ہے۔ مٹی سے وضو تک کیا جا ستا ہے۔ وضو کی ضرورت نماز تک محدود ہے۔ ہہاں لوگ بسم الله شریف تک درست نہیں پڑھ سکتے لہذا ٹیشو پیپر کا استعمال ایسا غلط نہیں معلوم ہوتا۔ اگر اس قماش کے لوگ گھیسی بھی کر لیں تو کوئ برائ نہیں۔ طہارت کے لیے لوٹا' گھیسی یا ٹیشو پیپر نہ بھی استعال میں لاءیں تو بھی ان کی سر جاءے گی۔ یہ لوگ عوام کا ووٹ حاصل کرکے طہارتیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی پاکی پلیدی پر انگلی نہیں رکھی جا سکتی۔
لوٹے کے چھوٹا یا بڑا ہونے کے حوالہ سے بات ہوئ ہے لوٹا چھوٹا ہو یا بڑا' بظاہر ا س سے کوئ فرق نہیں پڑتا۔ لوٹا اول تا آخر لوٹا ہے کہاں تک ساتھ دے گا۔ مٹی کا لوٹا ٹوٹ ہی جاتا ہے۔ لوٹےکے بڑا یا چھوٹا ہونے سے اچھا خاصا اثر پڑتا ہے۔ چھوٹے لوٹے میں پانی کم پڑتا ہے اس لیے طہارت کے لیے دو سے زیادہ لوٹوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اس کے برعکس بڑا لوٹا بڑی حد تک ایک ہی کافی ہوتا ہے۔ رہ گئ ٹیشو پیپر یا گھیسی کی بات ٹیشو پیپر بڑے ایوانوں یا بڑے گھروں کے کام کی چیز ہوسکتی ہے لیکن دیہاتوں یا جھونپڑوں کے مقیم اسے afford نہیں کر سکتے اور نہ ہی یہ ان کی تسلی کی چیز ہو سکتی وہ گھیسی یا کچے روڑے کےاستعمال کو ترجیع میں رکھتے ہیں۔
لوٹے کا اصطلاحی استعمال بڑے ایوانوں میں ہوا کرتا تھا اصطلاحی لوٹا عوام کے متعلق چیز نہ تھی اور نہ ہی ایوانی لوٹوں پر کسی قسم کی بات کرنے کا حق تھا ۔ ان کی یہ اوقات بھی نہ تھی کہ وہ ایوانی لوٹوں کے متعلق کوئ بات اپنی ناپاک زبان پر لاءیں۔ لوٹے ا اپنی اوقات اورافادیت کے حوالہ سے بڑی importance رکھتے ہیں۔ کمی کمین عوام جو دوچار بتی کھچ جھٹکوں کی مار نہیں ہیں' تقدس ماب لوٹوں پر اپنے حوالہ سے ایک شبد بھی منہ سے نہ نکالیں۔ ان کی اتنی جرات اور ہمت کہاں حالانکہ لوٹوں کے بارے اں کی بقلم خود راءے موجود رہی ہے۔ عوام کو صرف اور صرف راءے دہی کا حق حاصل ہے۔ اگر مخالف فریق کے ڈبے میں ووٹ چلا جاتا ہے تو راءے دہی کا حق' داھندلی کے لقب سے ملقوب ہوتا ہے۔
میں اصل نقطے کی بات عرض کرنا بھول گیا ہوں لوٹے کی ہیت ترکیبی ٹونٹی تک محدود نہیں پیندے کا اس میں بنیادی رول ہوتا ہے۔ مٹی کے بعض لوٹے بلا پیندے کے بھی رہے ہیں۔ اس قسم کے لوٹوں کے لیے پیالہ نما جگہ بنا دی جاتی تھی لیکن پیندے وا لے لوٹے پیالے کی سعادت سے محروم رہتے تھے۔ پلاسٹک کے لوٹے باپیندا ہوتے ہیں ہاں زیادہ استعمال کے باعث ان کا پیندا ٹوٹ بھی جاتا ہے لیکن ٹوٹ پھوٹ کے باوجود پیندے کا نام و نشان باقی رہتا ہے۔ انھیں استعمال کی کسی بھی سطع پر بے پیندا لوٹا قرار نہیں دیاجا سکتا۔ استعمال کے سبب نیچے سے کتنا بھی ٹوٹ جاءے پیندے کا نشان ضرور باقی رہ جاتا ہے۔ معمولی نشان بھی اسے باپیندا قراردینے کے لیے کافی ہوتا ہے۔
سیانے مولوی اپنا طہارت خانہ الگ سے رکھتے ہیں لہذا ان کا لوٹا بھی اوروں سے الگ تر ہوتا ہے۔ اس طر ح مولوی صاحب کا لوٹا' مقدس لوٹا ہوتا ہے۔ دفاتر میں عملے کے طہارت خانے عام استعمال میں رہتے ہیں اس لیے وہاں کے لوٹے کسی خاص دفتری کے لیے مخصوص نہیں ہوتے ہاں البتہ افسروں کے طہارت کدے ان کے دفتر کے اندر ہی ہوتے ہیں۔ ان طہارت کدوں کے لوٹے بڑی معنویت کے حامل ہوتے ہیں۔ بعض افسر ٹیشو پیپر استعمال میں لاتے ہیں' وہاں لوٹے نہیں رکھے جاتے ۔ کچھ افسرز کے طہارت کدوں میں دونوں چیزیں موجود ہوتی ہیں۔ موقع کی مناسبت سے لوٹے یا ٹیشو پیپر کا استعمال کرتے ہیں تاہم ان کے طہارت کدوں کی آن بان اور شان ہی کچھ اور ہوتی ہے۔
حضرت پیر صاحبان کے واش روم زیر بحث نہیں لءےجا سکتے کیونکہ حضرت پیر صاحبان نیک پاک اور عزت کی جگہ پر ہوتے ہیں۔ یہ اپنی خانقاہ میں ہوں یا کسی ایوان کی زینت بڑھا رہے ہوں' ان کے لوٹے دوہرے کام کے ہوتے ہیں. نہ گھومیں تو چاند گھوم جاءں تو زنجیر وٹ پر رہتی ہے۔ بہرطور طہارتی اور پرچی نکالنے والے لوٹے الگ ہوتے ہیں اس لیے ان کے حوالہ سے بات کرنے پر پاپ لگتا ہے۔ ایوانوں میں تشریف رکھنے والے حضرت پیر صاحبان سیاسی کھیل کے لیے پیندے اور بے پیندے لوٹے استعمال میں لاتے رہتے ہیں اور یہ ان کا پروفیشنل حق بھی ہوتا ہے لہذا کسی کو کوئ حق نہیں پہنچتا کہ وہ حضرت پیر صاحبان کے لوٹوں کی جانب میلی نظر سے بھی دیکھنے کی گستاخی کرے۔ اس قسم کے لوگوں کی زمین پر ٹہوئ نہیں ہوتی۔
کوئ لوٹا نواز ہک پر ہتھ مار کر نہیں کہہ سکتا کہ لوٹا زندگی کے کسی موڑ پر اپنی مرضی سےاوور فلو ہونے کی گستاخی کرتا ہے۔ یہ لوٹے دار کی غلطی کوتاہی بے نیازی یا بے دھیانی کے سبب اوور فلو ہوتا ہے۔ چھوٹے لوٹے میں بڑے لوٹے کے برابر پانی ڈالو گے تو ہی بات بگڑے گی۔ اسی طرح بڑے لوٹے میں چھوٹے لوٹے کا پانی طہارتی امور سرانجام نہیں دے سکتا۔ لوٹا دار کا فرض ہے کہ وہ تناسب کو ہاتھ سے ناجانے دے۔ استاد غالب بلا کا لوٹا شناس تھا. تبھی اس نے کہا تھا:
دیتے ہیں بادہ ظرف قدح خوار دیکھ کر
اماں حوا سے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ آدم کی بچی ہوئ مٹی سے بنائ گئ تھیں۔ میں اس بات کو نہیں مانتا تاہم یہ ایک میتھ ضرور ہے۔ ایک عام آدمی کا خیال ہے کہ ہمارے ہاں کے لوٹے استاد غالب کے کسی نہایت حرامی لوٹے کی بچی ہوئ مٹی سے وجود پذیر ہوءے ہیں۔ میں اس عقیدے پر یقین نہیں رکھتا تاہم یہ ایک میتھ ضرور ہے۔
جگہ' قانون' لوگ اورحکومت کسی بھی ریاست کے وجود کے لیے ضروری عناصر ہوتے ہیں۔ ان کے بغیر ریاست وجود میں نہیں آ سکتی۔ ان میں سے ایک عنصر بھی شارٹ ہو تو ریاست نہیں بنتی۔ حکومتی ایوانوں میں لوٹے نہ ہوں تو معزز ممبران لبڑی پنٹوں شلواروں کے ساتھ نشتوں پر بیٹھیںگے ' سوساءٹی میں پھیریں گے اس سے نا صرف حسن کو گریہن لگے گا بلکہ بدبو بھی پھیلے گی۔ لبڑی پنٹوں شلواروں والے ممبران کی عزت کون کرے گا۔ گریب عوام اور ان میں فرق ہی کیا رہ جاءے گا۔ کھوتا گھوڑا ایک برابر ہو جاءیں گے لہذا لوٹوں کی خرید و فروخت کا کام' اپنی ضرورت اور افادیت کے حوالہ سےپہلا سوال لازمی کی حیثیت رکھتا ہے۔ لوٹوں کی تجارت پر کسی بھی سطع پر کبیدہ خاطر ہونا سراسر نادانی کے مترادف ہے۔ ریاست کے ضروری عنصر یعنی حکومت کے ہونے کے لیے لوٹوں کے کاروبار پر ناک منہ اور بھووں کو کسی قسم کی تکلیف دینا کھلی ریاست دشمنی ہے۔ اس کاروبار پر ناک منہ اور بھویں اوپر نیچے کرنے والے حضرات غدار ہیں اور غدار عناصر کا کیفرکردار تک پہنچنا بہت ضروری ہوتا ہے اورانھیں سزا دینے کی حمایت کرنا حکومت دوستی کے مترادف ہے۔
Tags:
© 2026 Created by John Santiago.
Powered by